اسلام آباد۔13مئی (اے پی پی):وفاقی وزیرِ برائے خزانہ و محصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ جاری پالیسی اقدامات محض قلیل مدتی ضرورتوں کے تحت نہیں بلکہ وسیع، تکنیکی بنیادوں پر استوار معاشی تبدیلی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کی اعلیٰ ترین سطح پر توثیق کی جا چکی ہے،حکومت معیشت کو درپیش ڈھانچہ جاتی چیلنجز خصوصاً بیرونی واجبات اور برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت سے پوری طرح آگاہ ہے۔
انہوں نے یہ بات بدھ کویہاں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے پاکستان کا دورہ کرنے والے مشن سے ملاقات میں کہی۔ وزیرخزانہ نے پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال، مالیاتی حکمتِ عملی، اصلاحات کے حوالے سے ترجیحات، حکومت کی جانب سے پائیدار معاشی استحکام اور طویل المدتی اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ مذاکرات میں پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں، آئندہ وفاقی بجٹ کی تیاریوں اور وسیع تر اصلاحات کے ایجنڈے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جس کا مقصد مالیاتی اور بیرونی شعبے کے استحکام کو مضبوط بناتے ہوئے پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
فریقین نے اصلاحاتی عمل کی رفتار برقرار رکھنے، معاشی استحکام کے تحفظ اور سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات پر مبنی ترقی کے فروغ کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے سے متعلق خیالات کا تبادلہ کیا تاکہ ایک متوازن اور مستقبل پر مبنی پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔ وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے آئی ایم ایف کی جانب سے حکومتِ پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مذاکرات کو سراہا۔ انہوں نے خاص طور پر رواں سال واشنگٹن میں منعقدہ موسم بہارکے اجلاس کے دوران شروع ہونے والی مفید بات چیت کا ذکر کیا۔
وزیرخزانہ نے پاکستان کے بیرونی شعبے میں حوصلہ افزا پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں مثبت رجحانات پرروشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں ماہانہ اور سالانہ بنیاد پر بہتری دیکھی گئی جو معیشت کی مضبوطی اور مجموعی معاشی بنیاد کے بتدریج استحکام کی عکاس ہے۔
وزیرِ خزانہ نے کہاکہ اگرچہ معاشی استحکام کی کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ، تاہم حکومت معیشت کو درپیش ڈھانچہ جاتی چیلنجز خصوصاً بیرونی واجبات اور برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت سے پوری طرح آگاہ ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت طویل المدتی ترقی کے امکانات کو متاثر کیے بغیر معاشی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحاتی عمل میں تیزی لائے گی ۔ اس ضمن میں انہوں نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ پاکستان کو بار بار آنے والے معاشی اتار چڑھاؤ کے چکروں سے نکالنے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، ضابطہ کاری میں نرمی اور برآمدی مسابقت میں بہتری ناگزیر ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت کا اصلاحات کا ایجنڈا بین الاقوامی ماہرین اور ماہرِ معاشیات سے مشاورت کے بعد نہایت احتیاط سے ترتیب دیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جاری پالیسی اقدامات محض قلیل مدتی ضرورتوں کے تحت نہیں کیے جا رہے بلکہ یہ وسیع تکنیکی بنیادوں پر استوار معاشی تبدیلی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کی اعلیٰ ترین سطح پر توثیق کی جا چکی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے آئی ایم ایف مشن کو بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کے جاری روابط سے بھی آگاہ کیا جن میں چین کے ساتھ معاشی تعاون کے جاری اقدامات اور ملک کی سٹریٹجک معاشی ترجیحات سے ہم آہنگ طویل المدتی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششیں شامل ہیں۔
آئی ایم ایف وفد کی قیادت مشن چیف ایواپیٹرووا کر رہی تھیں،مشن نے مشکل عالمی اور علاقائی حالات کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھنے میں پاکستان کی مثبت پیش رفت کو سراہا۔
وفد نے حکومت کی جانب سے محتاط معاشی نظم و نسق اور اصلاحات کے تسلسل کے عزم کی تعریف بھی کی۔ آئی ایم ایف کی ٹیم نے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحات کے رفتار کو برقرار رکھنا، مالیاتی نظم و ضبط قائم رکھنا اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔
اجلاس میں مجموعی معاشی فریم ورک، حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے اور آئندہ بجٹ کی ترجیحات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔آئی ایم ایف مشن نے پاکستان کے معاشی اصلاحات کے پروگرام اور طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے حکومتِ پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس میں گورنرسٹیٹ بینک جمیل احمد، سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال ،چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو راشد محمودلنگڑیال اور وزارتِ خزانہ و محصولات ڈویژن اور ٹیکس پالیسی آفس کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔