پائیدار ترقی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں مکمل طور پر شامل نہ کیا جائے،وفاقی وزیر

پائیدار ترقی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں مکمل طور پر شامل نہ کیا جائے،وفاقی وزیر

اسلام آباد۔14مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی ،اصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ یہ محض ایک پالیسی نہیں، ایک قومی شعور کی بیداری ہے کہ جب خواتین کو تعلیم، مواقع اور اعتماد دیا جاتا ہے تو قومیں ترقی کی نئی منزلیں طے کرتی ہیں، ’’اُڑان پاکستان‘‘ کا وژن دراصل ایسے پاکستان کی تشکیل ہے جہاں بیٹیاں صرف خواب نہ دیکھیں بلکہ اُن خوابوں کی تعبیر بھی خود بنیں۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی نے خواتین کی معاشی خودمختاری اور صنفی مساوات سے متعلق قومی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پائیدار ترقی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں مکمل طور پر شامل نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی کامیاب معیشتوں میں خواتین کی فعال معاشی شمولیت بنیادی کردار ادا کرتی ہے جبکہ پاکستان میں خواتین کی ورک فورس میں شرکت تقریباً 22 فیصد ہے جس میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’اُڑان پاکستان‘‘ کے پانچویں E کے تحت حکومت خواتین کو تعلیم، روزگار، کاروبار اور قیادت کے شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات کررہی ہے، پاکستانی خواتین آج طب، تحقیق، تعلیم، کاروبار اور انتظامی قیادت سمیت مختلف میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کررہی ہیں جبکہ میڈیکل کالجز میں طالبات کی بڑی تعداد ایک مثبت سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ خواتین کو اعلیٰ تعلیم تک آسان رسائی دینے کیلئے ملک بھر کے اضلاع میں یونیورسٹی کیمپس قائم کئے جارہے ہیں تاکہ صلاحیتیں جغرافیائی رکاوٹوں کی محتاج نہ رہیں۔ انہوں نے صنفی امتیاز اور خواتین کے خلاف تشدد کو اسلامی تعلیمات اور قومی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نے خواتین کو تعلیم، تجارت اور معاشی سرگرمیوں میں مکمل حقوق دیئے ہیں اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ اسلامی تاریخ میں کامیاب کاروباری قیادت کی روشن مثال ہیں۔

وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ’’اُڑان پاکستان‘‘ کے ہر ترقیاتی منصوبے میں خواتین کو بااختیار بنانا، انہیں قومی دھارے میں مؤثر کردار دینا اور ترقی کے ثمرات میں مساوی شراکت یقینی بنانا حکومت کی بنیادی ترجیح رہے گی۔