اسلام آباد۔25مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے لیے ویڈ لاک پالیسی کے تحت تبادلہ کوئی مطلق یا لازمی حق نہیں بلکہ اس کا اطلاق متعلقہ سروس رولز، آسامیوں کی دستیابی اور انتظامی ضروریات کے تابع ہے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ازدواجی زندگی کی مشکلات کم کرنا ہے تاہم اسے قانون اور قواعد کی حدود سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔
سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے ویڈ لاک پالیسی کے تحت سرکاری ملازمہ کی جانب سے تبادلے کی درخواست سے متعلق کیس میں اہم قانونی اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس پالیسی کی حیثیت سہولت کاری کی ہے، نہ کہ کسی خودکار یا لازمی حق کی۔یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنایا جس میں پنجاب بورڈ آف ریونیو کی اسسٹنٹ (بی پی ایس-14) ناہیدہ عزیز کی جانب سے دائر سی پی ایل اے پر سماعت کی گئی۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ اور ان کے شوہر دونوں سرکاری ملازمت میں ہیں تاہم مختلف شہروں میں تعینات ہیں جس کے باعث گھریلو اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈ لاک پالیسی کے تحت ان کا تبادلہ ایک ہی سٹیشن پر کیا جائے۔دوسری جانب صوبائی حکومت کے وکیل نے موقف اپنایا کہ متعلقہ سروس رولز کے تحت تبادلہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب متعلقہ کیڈر اور سروس اس کی اجازت دیتے ہوں اور بعض صورتوں میں یہ ایک الگ یونٹ ہونے کے باعث ممکن نہیں ہوتا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ویڈ لاک پالیسی کا مقصد میاں بیوی کو ایک ہی سٹیشن پر تعینات کر کے ان کی سماجی و معاشی مشکلات کم کرنا اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانا ہے تاہم یہ سہولت متعلقہ قواعد و ضوابط اور آسامیوں کی دستیابی سے مشروط ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پنجاب سول سرونٹس (اپائنٹمنٹ، ٹرانسفر اینڈ پروموشن) رولز 1974 کے تحت تبادلہ بطور حق نہیں دیا جا سکتا، خصوصاً اس صورت میں جب پوسٹنگ مختلف کیڈرز یا انتظامی یونٹس میں ہو۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ویڈ لاک پالیسی کا اطلاق ہمدردانہ بنیادوں پر کیا جانا چاہیے اور متعلقہ حکام کو ہر کیس کے حقائق کی روشنی میں مناسب غور و خوض کرنا چاہیے۔سپریم کورٹ نے معاملہ دوبارہ متعلقہ مجاز اتھارٹی کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ درخواست پر تمام قانونی و انتظامی پہلوئوں کو مدنظر رکھ کر ازسرنو فیصلہ کیا جائے۔