اسلام آباد۔12مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے آم کے برآمدکنندگان کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ،جس کا مقصد موجودہ عالمی چیلنجز کے تناظر میں آم کی برآمدات کو فروغ دینا اور درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔ اجلاس میں برآمدکنندگان، وزارت کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان کی تقریباً 80 فیصد آم کی برآمدات افغانستان اور خلیجی ممالک کو ہوتی ہیں جبکہ 20 فیصد یورپ اور دیگر منڈیوں کو جاتی ہیں تاہم افغانستان کی سرحدی بندش اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث برآمدی راستے متاثر ہوئے ہیں۔ برآمدکنندگان نے مزید بتایا کہ بڑھتی ہوئی فیول قیمتوں اور ٹرانسپورٹ اخراجات نے برآمدات کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے جس سے عالمی منڈی میں مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت آم کے شعبے کو قومی معیشت کا اہم ستون سمجھتی ہے اور برآمدکنندگان کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے ٹرانسپورٹ پر سبسڈی دینے کے امکان پر بھی غور کا عندیہ دیا تاکہ برآمدی لاگت کم ہو اور مسابقت میں بہتری آئے۔انہوں نے برآمدکنندگان پر زور دیا کہ وہ ویلیو ایڈیشن، پراسیسنگ، برانڈنگ اور جدید پیکجنگ پر توجہ دیں تاکہ پاکستان خام آم کی برآمد کے بجائے اعلیٰ معیار کی مصنوعات جیسے پیوری، پلپ اور ڈرائی فروٹس کی صورت میں زیادہ منافع حاصل کر سکے۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت وزارتِ تجارت، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور کولڈ چین انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت برآمدکنندگان کے ساتھ کھڑی ہے اور پاکستان کی زرعی برآمدات کو عالمی سطح پر مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔