اسلام آباد۔15اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) منصوبوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، فنڈز کے استعمال اور آئندہ ترجیحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ غیر معمولی علاقائی صورتحال کے پیش نظر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 172 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔
اس تناظر میں وفاقی وزیر نے چوتھی سہ ماہی کے دوران دستیاب وسائل کے مؤثر اور بامقصد استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
وفاقی وزیر نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے منصوبہ جاتی پورٹ فولیو کا جامع جائزہ لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر روپیہ بامقصد انداز میں خرچ ہونا چاہیے اور کوئی فنڈ غیر استعمال شدہ نہیں رہنا چاہیے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تکمیل کے قریب منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر بروقت مکمل کیا جائے،لاگت میں اضافے سے بچنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائی جائے۔
ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کا ازسرنو تعین کیا جائے،ایک روپے کی بھی فنڈنگ غیر استعمال شدہ نہ رہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی کا مجموعی حجم ایک ہزار ارب روپے ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی طلب 3 ہزار 270 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جو مالی دباؤ کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔
اہم منصوبوں کے لیے مختص فنڈز میں این-25 ہائی وے کے لیے 100 ارب روپے،آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور ضم شدہ اضلاع کے لیے 147 ارب روپےبلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 109 ارب روپے شامل ہیں ۔
ان بڑے منصوبوں کے لیے بھاری فنڈز مختص کیے جانے کے بعد دیگر منصوبوں کے لیے مالی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔
اجلاس میں مختلف وزارتوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں وزارت خزانہ، بین الصوبائی رابطہ ڈویژن، تجارت ڈویژن، پاور ڈویژن، انسانی حقوق ڈویژن، وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وزارت منصوبہ بندی نے 80 فیصد سے زائد فنڈز استعمال کر کے بہتر کارکردگی دکھائی۔
کم کارکردگی دکھانے والی وزارتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ منصوبوں کی منظوری اور عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ ترقیاتی اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔