وفاقی وزارت صحت ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنارہی ہے، اس سلسلے میں مربوط حکمت عملی تشکیل دی ہے ، وزارت صحت

وفاقی وزارت صحت ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنارہی ہے، اس سلسلے میں مربوط حکمت عملی تشکیل دی ہے ، وزارت صحت

اسلام آباد۔20اپریل (اے پی پی):وزارت صحت کے حکام نے کہا ہے کہ وفاقی وزارت صحت ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنارہی ہے اس سلسلے میں مربوط حکمت عملی تشکیل دی ہے ، وزارت صحت حالیہ واقعے سے نہ صرف مکمل طور پر آگاہ ہے بلکہ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے موثر اور فوری اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکومت پنجاب کو باضابطہ مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں واقعے کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات، انفیکشن سے بچائو کے ضابطوں پر سختی سے عملدرآمد، صوبہ بھر کے ہسپتالوں کے جامع معائنے اور آڈٹ اور غفلت کے مرتکب ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مراسلے میں عطائیوں کے خلاف سخت کارروائی اور خون کی غیر محفوظ منتقلی کی روک تھام پر بھی زور دیا گیا ہے جبکہ غیر مستند عملے کے کلینکل کام میں ملوث ہونے پر پابندی اور تربیتی نظام کو موثر بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔وزارت نے مزید بتایا کہ وفاقی سیکرٹری صحت کی زیر صدارت تمام صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جا رہا ہے جس میں ہسپتالوں میں حفاظتی معیار کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی معاونت بھی فراہم کی گئی ہے، جس میں انفیکشن کنٹرول سے متعلق رہنمائی، نگرانی کے نظام کی بہتری اور متاثرہ بچوں کے علاج کی سہولیات شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یونیسف سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے ایک مربوط اور موثر حکمت عملی پر عمل جاری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی مکمل روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ محکمہ صحت پنجاب کو ہدایت کی گئی ہے کہ تحصیل سطح پر خون کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر فوری اقدامات کیے جائیں۔وزارت صحت نے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ ملک بھر کے تمام سرکاری و نجی طبی مراکز خصوصاً ہائی رسک اضلاع میں انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور غیر محفوظ ٹیکوں کے استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں کے فوری معائنے، طبی عملے، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے لیے قومی سطح پر تربیتی پروگرام کے آغاز، ایچ آئی وی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور ڈسپوزیبل سرنجوں و طبی سامان کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر ضروری ٹیکوں اور ڈرپس کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سزائوں کا موثر نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔ خون کی محفوظ منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی بلڈ سینٹرز کے قیام پر بھی کام تیز کیا جائے گا تاکہ قریبی اضلاع کو معیاری اور محفوظ خون کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔وفاقی وزارت صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کی صحت اور تحفظ اولین ترجیح ہے۔