اسلام آباد۔13اپریل (اے پی پی):وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے ہدایت کی ہے کہ ادارے میں آنے والے شکایت کنندگان کو ہرممکن سہولت فراہم کی جائے اور اگر کوئی شکایت کسی دوسرے وفاقی یا صوبائی محتسب سے متعلق ہو تو درخواست گزار کو واپس بھیجنے کے بجائے اس کی شکایت وصول کر کے متعلقہ فورم کو بھجوا دی جائے۔ترجمان کے مطابق انہوں نے یہ ہدایات ادارے کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں جس میں تمام شعبہ جات کے افسران نے شرکت کی جبکہ علاقائی دفاتر کے افسران آن لائن شریک ہوئے۔
وفاقی محتسب نے کہا کہ شکایات کو 60 دن کی مقررہ مدت میں نمٹانے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ شکایت کنندگان کو ان کے گھروں کے قریب انصاف کی فراہمی کے لیے او سی آر پروگرام اور کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا جبکہ اس حوالے سے مزید اقدامات بھی جلد کیے جائیں گے۔نوید کامران بلوچ نے کہا کہ فریقین کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کے پروگرام ’’آئی آر ڈی‘‘ کو مزید وسعت دی جا رہی ہے تاکہ مقدمات کے بروقت اور موثر حل کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال 31 مارچ تک 62 ہزار 734 شکایات موصول ہو چکی ہیں۔
وفاقی حکومت کے 213 ادارے وفاقی محتسب کے کمپیوٹرائزڈ نظام (سی ایم آئی ایس) کے ساتھ منسلک ہیں جہاں اگر کسی ادارے میں شکایت ایک ماہ میں حل نہ ہو تو وہ خودکار طور پر وفاقی محتسب کے نظام میں منتقل ہو جاتی ہے اور اس پر کارروائی شروع کر دی جاتی ہے۔وفاقی محتسب نے کہا کہ ادارے کے بارے میں آگاہی مہم کو مزید موثر اور منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارے کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔