اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرنے والی خاتون عائشہ کو اپنی مرضی سے رہنے کی اجازت دیتے ہوئے والدین کی حوالگی سے متعلق درخواست نمٹا دی۔جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ بچی کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کروا لیا گیا ہے اور رپورٹ کے مطابق عائشہ کی عمر 19 سے ساڑھے 19 سال کے درمیان ہے۔عدالت نے گزشتہ سماعت پر دستاویزات اور عائشہ کے دعوے میں عمر کے فرق کے باعث میڈیکل کرانے کا حکم دیا تھا۔ عائشہ کے وکیل وسیم ممتاز نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے اسی بنیاد پر عمر کے تعین کے لیے طبی معائنہ کرانے کی ہدایت کی تھی۔دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اگر بچی بالغ ہے تو اسے اپنی مرضی سے رہنے کی مکمل اجازت ہے۔ عدالت نے عائشہ کو ہدایت کی کہ اگر والدین ملاقات کرنا چاہیں تو ان کی بات مانیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ لاہور کی رہائشی سونیا نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام عائشہ رکھ لیا تھا۔ عائشہ نے عدالت میں بیان دیا کہ اس کے والدین اس پر اسلام چھوڑ کر دوبارہ عیسائی مذہب اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔واضح رہے کہ آئینی عدالت نے گزشتہ سماعت پر عائشہ کو کیس کے فیصلے تک دارالامان منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے بعد ازاں والدین کی حوالگی کی درخواست نمٹاتے ہوئے کیس کی کارروائی مکمل کردی۔