وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی کاروباری برادری سے مشاورتی نشست، سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول بہتر بنانے پر زور

وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی کاروباری برادری سے مشاورتی نشست، سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول بہتر بنانے پر زور

اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):ملک میں کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری کے فروغ اور معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے بدھ کو کو کاروباری برادری کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔

یہ اجلاس اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی ) کے تحت کاروباری طبقے کے ساتھ جاری رابطوں کے سلسلے کی کڑی تھا، جس کا مقصد تاجروں اور صنعتکاروں کو درپیش مسائل اور چیلنجز کا جائزہ لینا تھا۔اجلاس میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اے پی ٹی ایم اے )، پاکستان بزنس کونسل ( پی سی بی )، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( ایف پی سی سی آئی ) سمیت کراچی، لاہور، فیصل آباد، کوئٹہ، سرحد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات اور سیالکوٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹیشن کونسل ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر)، وزارتِ تجارت اور وزارتِ صنعت و پیداوار کے حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں پاکستان میں کاروباری ترقی اور سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرنے والی اہم رکاوٹوں اور پالیسی چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے معیشت کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروبار دوست ماحول کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے اس موقع پر حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لیے مستحکم اور قابلِ اعتماد پالیسی فریم ورک فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی حکمت عملی کا مرکز برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی ہے، جس کے لیے سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان مؤثر تعاون اور ادارہ جاتی سہولت کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ کاروباری نمائندوں نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹیشن کونسل کے تحت قائم پلیٹ فارم کے فعال اور مسئلہ حل کرنے والے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اصلاحات کے عمل اور کاروبار میں آسانیوں کے فروغ کے لیے حکومت کے ساتھ مسلسل تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اجلاس کے دوران کاروباری برادری نے مختلف کاروباری طریقہ کار اور متعلقہ ضوابط سے متعلق اپنے تحفظات اور مسائل بھی پیش کیے۔ وزیر مملکت نے ان مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ پہلے سے موجود مربوط نظام کے تحت ان چیلنجز کے فوری اور مؤثر حل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ کاروباری برادری کے ساتھ اس پلیٹ فارم پر تعمیری اور باقاعدہ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔