اسلام آباد۔18اپریل (اے پی پی):وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب سے ہواوے ٹیکنالوجیز کےسینئر وفد نےان کے دفتر میں ملاقات کی جس میں سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل ایکسچینج انفراسٹرکچر پر تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پریس ریلیز کے مطابق اس ملاقات نے اس مشترکہ ادراک کی عکاسی کی کہ مضبوط سکیورٹی ڈھانچہ پاکستان کے ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کی قابلِ اعتبار اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
ملاقات کے دوران پاکستان کے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل اثاثہ ایکو سسٹم کے لیے سائبر سکیورٹی انفراسٹرکچر کی ضروریات، ہواوے کا سائبر سکیورٹی یقین دہانی، کرپٹوگرافک ٹیکنالوجیز اور عالمی معیار کے مطابق کمپلائنس فریم ورک میں بین الاقوامی تجربہ، نیز محفوظ ڈیجیٹل ایکسچینج ماحول کی حمایت کے لیے جدید کلاوڈ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا انفراسٹرکچر کے کردار پر گفتگو کی گئی۔
چیئرمین بلال بن ثاقب نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل ایکسچینج انفراسٹرکچر مضبوط سائبر مزاحمت، صارفین کے تحفظ اور ضابطہ جاتی شفافیت کی بنیادوں پر قائم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی وی اے آر اے کا فریم ورک پاکستان کو خطے میں سب سے زیادہ محفوظ اور جدت پر مبنی ورچوئل اثاثہ دائرہ اختیار میں شامل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ہواوے کے وفد، جس کی قیادت ہواوے اے آئی اور کلاوڈ بزنس کے سی ای او احمد بلال مسعود کر رہے تھے، نے بطور صنعتی شراکت دار اس ایجنڈے کی حمایت کے عزم کا اظہار کیا۔
ملاقات کے اختتام پر آئندہ مہینوں میں تکنیکی بات چیت جاری رکھنے اور منظم تعاون کے طریقہ کار تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ہواوے کے وفد میں مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے لیے چیف سائبر سکیورٹی و پرائیویسی پروٹیکشن آفیسر کورے ڈینگ کے علاوہ عدنان ادھمی، سعد سعید طلحہ، اور لیڈیا ژانگ بھی شامل تھے۔