وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی ڈاکٹر کلپنا کوچھر سے ملاقات، پولیو کے خاتمے اور ڈیجیٹل اصلاحات پر تبادلہ خیال

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی ڈاکٹر کلپنا کوچھر سے ملاقات، پولیو کے خاتمے اور ڈیجیٹل اصلاحات پر تبادلہ خیال

واشنگٹن ڈی سی۔17اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاسوں کے موقع پر گیٹس فاؤنڈیشن کی صدر برائے عالمی پالیسی و ایڈووکیسی، ڈاکٹر کلپنا کوچھر سے ایک اہم ملاقات کی۔ جاری پریس ریلیز کے مطابق ملاقات کے آغاز میں وزیر خزانہ نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر بل گیٹس کے ساتھ اپنی سابقہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان اور گیٹس فاؤنڈیشن کے درمیان مضبوط شراکت داری کا اعادہ کیا۔ وزیر خزانہ نے اس بات کی توثیق کی کہ پولیو کا خاتمہ قومی ترجیح ہے اور اس کے لیے مسلسل نظامی معاونت ناگزیر ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر کوچھر کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دی، جس میں بالخصوص ریونیو لیکیجز میں کمی اور ٹیکس تعمیل کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم خود ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پروگرام کی نگرانی کر رہے ہیں اور ہفتہ وار جائزہ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اس پروگرام کے تین کلیدی ستونوں ڈیجیٹائزیشن اور مالی شمولیت (گورنر اسٹیٹ بینک کی قیادت میں)، حکومتی ادائیگیاں (سیکرٹری خزانہ کی سربراہی میں) اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر (سیکرٹری آئی ٹی کی قیادت میں) کا بھی ذکر کیا۔ ایف بی آر میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ڈیجیٹل کمپلائنس رسک مینجمنٹ (سی آر ایم) سسٹم کے نفاذ، مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیداوار کی نگرانی، ایس ایم ایس کے ذریعے رویہ جاتی ترغیبات، اور نوجوان ایف بی آر افسران کے لیے خصوصی تربیتی پروگراموں کا حوالہ دیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا مجموعی مقصد وقتی اقدامات کے بجائے اصلاحات کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔ پولیو ویکسین کی مالی معاونت کے حوالے سے وزیر خزانہ نے نشاندہی کی کہ موجودہ فنڈنگ صرف جون تا جولائی تک کے لیے کافی ہے، جس سے ممکنہ تعطل کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اسلامی ترقیاتی بینک کے ساتھ اپنے مضبوط دوطرفہ تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اضافی معاونت کے حصول کو تیز کرے گا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسلسل سیکھنے اور علم کے تبادلے کو شراکت داری کے ایک اہم ستون کے طور پر جاری رکھا جائے گا۔