پشاور۔ 24 اپریل (اے پی پی):وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت جمعہ کو پشاورڈویلپمنٹ اتھارٹی کا 14واں اجلاس ہوا۔ وزیر اعلی ہاوس پشاورکے تر جمان کے مطابق اجلاس میں متعدد امور کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی اور شہری نظم و ضبط بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں ناصر باغ روڈ کو پی ڈی اے کے دائرہِ اختیار میں دینے کی تجویز سے اتفاق اور حتمی منظوری کے لیے کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ۔
وزیر اعلٰی محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ناصر باغ روڈ کے اطراف عمارتوں کا فاصلہ 20 فٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی تاکہ تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ عوام کو بھی تکلیف سے بچایا جا سکے۔اجلاس میں ناصر باغ روڈ پر بلڈنگ کنٹرول اور ریگولیٹری نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز کے لیے اضافی اراضی کی الاٹمنٹ اور ری پلاننگ کی بھی منظوری دی گئی ۔
اجلاس میں باغ ناران اور شالمان پارک میں تفریحی منصوبہ ختم کرنے اور سکیورٹی رقم واپسی کی منظوری دی گئی ۔اجلاس میں وزیر اعلی کا عوامی خدشات اور عدالتی احکامات کے پیش نظر پارکس کو کمرشل استعمال سے محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔اجلاس میں ایف سی ٹیچنگ ہسپتال کے لیے حیات آباد سے خصوصی رسائی راستہ بنانے کی منظوری دی گئی ۔اجلاس میں وزیر اعلی کا سی ٹی ڈی ریجنل ہیڈکوارٹرز کے لیے حیات آباد میں اراضی مختص کرنے کی بھی منظوری دی گئی ۔اجلاس میں نجی موبائل نیٹ ورک کے 16 بی ٹی ایس ٹاورز کی لیز میں مزید 6 سال کے لیے توسیع کی منظوری دی گئی ۔
اجلاس میں غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں کے سبب منسوخ شدہ 171 پلاٹس کی بحالی کے لیے ایک مرتبہ رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ بحالی واجبات کی ادائیگی اور خلاف ورزی ختم کرنے سے مشروط ہو گی۔اجلاس میں پلاٹس بحالی کے لیے بقایاجات کی ادائیگی کے ساتھ بحالی کی درخواست بمعہ چارجز 30 جون تک جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس میں پی ڈی اے ملازمین کی پروموشن کے لیے کمیٹی سفارشات کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ شکایات ازالے کے لیے کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیر اعلٰی نے کہا کہ ملازمین دس دنوں کے اندر اپنی شکایات کمیٹی میں پیش کر سکتے ہیں۔اجلاس میں حیات آباد ٹاون کے لیے باؤنڈری وال اور سرویلنس سسٹم کی تجویز دی گئی اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ نے باضابطہ پلان طلب کر لیا۔منصوبے کا مقصد حساس علاقوں کی سکیورٹی کو بہتر بنانا اور ٹاؤن میں غیر ضروری ٹریفک کی روک تھام ہے۔ اجلاس میں پی ڈی اے کے لیے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے قیام اور راپرٹی ڈیلرز کی رجسٹریشن کے لیے ایس او پیز کی منظوری دی گئی ۔اجلاس میں ریگی ماڈل ٹاؤن میں پیٹرول پمپ اور کمرشل سائٹ جبکہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سامنے کمرشل اراضی کی ری پلاننگ کی بھی منظوری دی گئی ۔