وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت پروانشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اجلاس ، شدید موسمی خطرات کے پیش نظر جامع کنٹی جنسی پلان کی منظوری

وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت پروانشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اجلاس ، شدید موسمی خطرات کے پیش نظر جامع کنٹی جنسی پلان کی منظوری

کوئٹہ۔ 18 مئی (اے پی پی):حکومت بلوچستان نے مون سون سیزن 2026 اور ممکنہ شدید موسمی خطرات کے پیش نظر جامع کنٹی جنسی پلان کی منظوری دے دی ۔ یہ فیصلہ پیر کے روز وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پروانشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کے اہم اجلاس میں کیا گیا ۔اجلاس میں صوبے کو درپیش ممکنہ قدرتی آفات، مون سون بارشوں، سیلابی صورتحال، ہیٹ ویو اور غیر معمولی موسمی تغیرات سے نمٹنے کےلئے تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔اجلاس کو متعلقہ حکام اور ماہرین کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث بلوچستان میں امسال درجہ حرارت 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا خدشہ ہے جبکہ کلائوڈ برسٹ کے بعد اچانک ہیٹ برسٹ جیسے غیر معمولی موسمی خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کےلئے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں ۔

اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ تمام متعلقہ ادارے ہائی الرٹ رہیں اور پیشگی اقدامات ہر صورت مکمل رکھے جائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت اور مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ حکومت بلوچستان نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کےلئے 7500 ملین روپے کے فنڈز کی منظوری بھی دے دی جس کے تحت ریسکیو، ریلیف اور بحالی سرگرمیوں کو فوری طور پر فعال بنایا جائے گا ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈویژن اور ضلعی سطح پر پی ڈی ایم اے دفاتر کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے گا جبکہ ریسکیو مشینری، خیمے، ادویات، خوراک اور دیگر ضروری سامان کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی ۔اسی طرح صوبے بھر کے تمام اضلاع میں 1122 ریسکیو سینٹرز کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ آئندہ مرحلے میں تحصیل سطح پر بھی ریسکیو مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ امدادی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے ۔شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے خدشات کے پیش نظر ہسپتالوں میں ہیٹ سٹروک ایمرجنسی نافذ کرنے، طبی عملے اور ایمبولینس سروس کو مکمل الرٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی ۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عوامی آگاہی مہم فوری طور پر شروع کی جائے گی جس کے تحت تعلیمی اداروں، مساجد، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو گرمی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جائے گا ۔وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث غیر معمولی موسمی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے ،ایسی صورتحال میں حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ کےلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے ۔انہوں نے ہدایت کی کہ حساس اضلاع میں نکاسی آب کے نظام، ریسکیو مشینری، امدادی سامان اور ریلیف پوائنٹس ہر صورت فعال رکھے جائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل ممکن بنایا جا سکے ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کسی بھی آفت یا ہنگامی صورتحال میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی ، جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے بروقت اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمبر دشتی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، ایڈیشنل سیکرٹری چیف داخلہ حمزہ شفقات، سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمٰن بلوچ، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان کاکڑ، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون، سیکرٹری مواصلات بابر خان، سیکرٹری لائیو سٹاک داؤد خان بازئی، ایڈیشنل سیکرٹری چیف منسٹر سیکرٹریٹ محمد فریدون ، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان جہانزیب خان ، ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے عطاء اللہ مینگل اور نوید شیخ شریک تھے۔