ہانگژو۔25مئی (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، جدت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داریوں کو مزید فروغ دیتا رہے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے شہر ہانگژو میں منعقدہ چین-پاکستان فنی و پیشہ ورانہ تعلیم، صنعتی تعاون اور تبادلہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ سیمینار پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دورۂ چین کے موقع پر منعقد کیا گیا۔سیمینار میں دونوں ممالک کے حکومتی نمائندوں، تعلیمی ماہرین، فنی تربیت کے اداروں کے سربراہان اور صنعت سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر فنی تعلیم، صنعتی تعاون اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
تقریب کے دوران رانا مشہود احمد خاں نے پاکستان اور چین کے معروف تعلیمی اداروں اور کالجز کے درمیان ٹینگ انٹرنیشنل ایجوکیشن نیٹ ورک کے تعاون سے جدید ٹیکنالوجی اور مختلف تعلیمی شعبوں میں اہم معاہدوں پر دستخط کی تقریب دیکھی۔ ان معاہدوں کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان فنی تعلیم، ہنرمندی، تعلیمی تبادلوں اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔یہ شراکت داریاں پاکستانی نوجوانوں کے لیے جدید صنعتوں، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ ٹیکنالوجی اور صنعتی جدت جیسے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کریں گی۔ اس تعاون کے تحت علم کے تبادلے، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرامز، مشترکہ تربیتی منصوبوں اور بین الاقوامی اسناد کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خاں نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی تعلیمی اور صنعتی اداروں کے ساتھ مضبوط روابط پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی اور معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، جدت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داریوں کو مزید فروغ دیتا رہے گا۔یہ سیمینار پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک اور اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جس نے دونوں ممالک کے علاقائی ترقی، ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور نوجوانوں کی خوشحالی کے مشترکہ وژن کو مزید مضبوط کیا۔