وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کی چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ ون آن ون بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں

وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کی چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ ون آن ون بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں

اسلام آباد۔9مئی (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے پاکستان میں صنعتی تعاون، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے فروغ کے لیے معروف چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ ون آن ون بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) ملاقاتیں کیں۔یہاں جاری بیان کے مطابق ملاقاتوں کے دوران ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا وژن مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کو عملی شکل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان معاہدوں پر موثر عملدرآمد اور فالو اپ کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان کے الیکٹرک وہیکل سیکٹر میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے جس میں الیکٹرک گاڑیوں، ای وی بیٹریز اور جدید انرجی سٹوریج بیٹریز کی اسمبلنگ اور بعد ازاں مقامی مینوفیکچرنگ شامل ہے۔ہارون اختر خان نے مزید بتایا کہ حکومت ای وی بیٹری پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے جسے جلد متعارف کرایا جائے گا تاکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری، مقامی مینوفیکچرنگ اور تکنیکی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایم او یوز اور جوائنٹ وینچرز پر مکمل فالو اپ کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے نمایاں معاشی فوائد حاصل ہوں گے، مقامی صنعت مضبوط ہوگی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا اور جدید لیتھیم آئن اور سوڈیم آئن بیٹری ٹیکنالوجیز کو صنعتی اور روزمرہ استعمال کے لیے پاکستان میں متعارف کرانا ہے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان میں جدید بیٹری ٹیکنالوجی اور الیکٹرک وہیکل صنعت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون ایک نئی اقتصادی شراکت داری کی شکل اختیار کر رہا ہے۔