بیجنگ۔26مئی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیجنگ میں معروف چینی کمپنیوں کے اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقاتیں کیں، جن میں سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت اقتصادی، صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے فیمسن کے وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ژینگ جون چن کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے زرعی شعبے، بالخصوص اناج ذخیرہ کرنے، فیڈ کی پیداوار اور غذائی تحفظ کے حوالے سے فیمسن کی طویل خدمات کو سراہا۔ وزیراعظم نے فصلوں کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی کو حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے فیمسن کو خصوصی اقتصادی زونز اور گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت فراہم کردہ مراعات سے مستفید ہوئے پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی منتقلی کی سہولیات قائم کرنے کی دعوت دی۔
وزیراعظم نے شینڈونگ
ژن شو گروپ کارپوریشن کے چیئرمین ہاؤ جیان شن اور ان کے وفد سے بھی ملاقات کی اور پاکستان میں بحری شعبے کی ترقی، بیٹری مینوفیکچرنگ، معدنیات کی پراسیسنگ اور صنعتی تعاون کے شعبوں میں گروپ کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم نے ژن شو گروپ کے ژن شو اسپیشل اکنامک زون، پورٹ قاسم میں سی ٹو اسٹیل منصوبے، گوادر اور شمالی معدنیاتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے کردار کو سراہا۔ وزیراعظم نے ان سٹریٹجک منصوبوں کے لیے حکومت پاکستان کے مکمل تعاون کا کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت ان پر تیز رفتار عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم نے چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی کے چیئرمین ژانگ بنگنان اور چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے اعلیٰ نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے گزشتہ چھ دہائیوں سے پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، خصوصاً قراقرم ہائی وے اور رشکئی سپیشل اکنامک زون جیسے اہم منصوبوں میں ان کمپنیوں کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے سی پیک کے تحت ایم ایل-1، قراقرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ اور رابطوں کے دیگر منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور سی آر بی سی کو بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور علاقائی روابط کے فروغ میں طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔چینی کمپنیوں نے پاکستان کی اقتصادی صلاحیت پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے زراعت، صنعتی پیداوار، لاجسٹکس، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ان ملاقاتوں میں وزیر اعظم کی معاونت وفاقی وزرا اور اعلیٰ سرکاری حکام نے کی، جنہیں ان کاروباری ملاقاتوں میں کیے گئے فیصلوں پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی