وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام نے قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کے اقدامات کو تیز کر دیا، ’’اے آئی سیکھو2026‘‘ کا آغاز

وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام نے قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کے اقدامات کو تیز کر دیا، ’’اے آئی سیکھو2026‘‘ کا آغاز

اسلام آباد۔15اپریل (اے پی پی):وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام نے قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کے اقدامات کو تیز کر تے ہوئے ’’اے آئی سیکھو2026‘‘ کا آغاز کردیا ہے،پاکستان کا قومی مصنوعی ذہانت (اے آئی) روڈ میپ تیزی سے اے آئی کو معیشت کے مستقبل کے ایک اہم ستون کے طور پر قائم کر رہا ہےجہاں حکومت نے اے آئی کو قومی ترجیحی شعبہ قرار دیتے ہوئے 2030 تک 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اس تبدیلی کی بنیاد ایک ملک گیر کوشش ہے جس کا مقصد اے آئی تعلیم کا مضبوط نظام قائم کرنا ہے۔ حکومت نے اسکول کی سطح پر وفاقی اداروں میں اے آئی نصاب متعارف کرانے کی ہدایت دی ہے، جس کا دائرہ کار دور دراز علاقوں تک بڑھایا جائے گا تاکہ تمام طلبہ کو ابتدائی سطح پر اے آئی کی تعلیم میسر ہو۔ 2030 تک 1,000 مکمل فنڈڈ اے آئی سکالرشپس دینے کے منصوبے زیر غور ہیں جبکہ جدید تحقیقی راستوں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے تاکہ اے آئی انجینئرز، محققین اور ماہرین تیار کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 10 لاکھ نان-

آئی ٹی پروفیشنلز کو اپ اسکل کرنے کا ایک بڑا پروگرام بھی شامل ہےتاکہ کاروبار، مالیات اور پبلک سیکٹر سمیت مختلف شعبوں میں اے آئی کو بنیادی مہارت بنایا جا سکے۔ان اقدامات کا مظاہرہ حال ہی میں وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام کے تحت انڈس اے آئی ویک کے دوران نیشنل اے آئی ٹریننگز پروگرام میں دیکھنے میں آیاجہاں شرکاء کی تعداد 600 سے بڑھ کر 2,000 سے تجاوز کر گئی۔ شمولیت اس پروگرام کا اہم جزو تھی جس میں AI for HER اقدام کے تحت 500 سے زائد خواتین اور لڑکیوں کو تربیت دی گئی اور مختلف شہروں سے 10 خواتین کی قیادت میں AI اسٹارٹ اپس کو پیش کیا گیا۔ان پیش رفتوں کو مزید تیز کرتے ہوئے، وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام نے Google for Developers، Telenor اور Innovista کے اشتراک سے اے آئی سیکھو 2026کا آغاز کیا ہے۔ یہ ایک ملک گیر اے آئی اپ سکلنگ مہم ہے جس کا مقصد پاکستانیوں کو عملی سیکھنے کے ذریعے “وائب کوڈنگ” سے متعارف کروانا ہےجس میں گوگل اے آئی سٹوڈیو اور اینٹی گریویٹی جیسے ٹولز کے ذریعے ایپس، گیمز اور عملی حل تیار کیے جائیں گے۔ اس پروگرام میں ہیکاتھونز اور 2.5 ملین روپے کے انعامی فنڈ کی بھی سہولت موجود ہے۔

شرکاء goo.gle/aiseekho2026 پر یہاں رجسٹریشن کر سکتے ہیں،اہم بات یہ ہے کہ اے آئی سیکھوکو ایک وسیع قومی نظام کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے جو سیکھنے کو معاشی مواقع میں تبدیل کرتا ہے۔ شرکاء کو نیشنل انکیوبیشن سینٹرز جو 1,900 سے زائد سٹارٹ اپس کی معاونت کرتے ہیں، پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ، اور عالمی فری لانسنگ پلیٹ فارمز تک رسائی دی جاتی ہے۔ اے آئی سیکھو کے افتتاحی سیشن میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نوجوان بے پناہ صلاحیتوں سے بھرپور ہیں اور حکومت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ جو بھی اے آئی سیکھنا چاہے، اسے تربیت تک رسائی حاصل ہو۔قومی سطح پر اے آئی سیکھو بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں جیسے نیشنل اے آئی ایڈوانسمنٹ انیشی ایٹو کے ساتھ ہم آہنگ ہےجس کا ہدف 20,000 تربیتیں فراہم کرنا اور ملک بھر میں اے آئی ہبز قائم کرنا ہے۔#VibeKaregaPakistan کے وژن کے تحت اے آئی سیکھو2026پاکستان کی اے آئی امنگوں کو عملی شکل دینے کی ایک اہم کڑی ہے، جو نئی نسل کو نہ صرف اے آئی سیکھنے بلکہ تخلیق، جدت اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں حصہ لینے کے قابل بناتا ہے۔“ڈیجیٹل نیشن پاکستان” کے وسیع تر وژن کے تحت وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ ملک کو سروسز پر مبنی معیشت سے اے آئی پر مبنی ترقیاتی ماڈل کی طرف منتقل کیا جائےجس میں تعلیم، افرادی قوت اور جدت کے نظام میں اے آئی کو شامل کیا جائے۔

ٹیلی نار پاکستان کے سی ای اواویس وہرا نے اپنے خطاب میں کہا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے عالمی معیشتوں اور معاشروں کو بدل رہی ہے اے آئی سیکھو کے ذریعے ہم اے آئی تعلیم تک رسائی کو عام بنانا چاہتے ہیں اور پاکستانی نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے صارف نہیں بلکہ تخلیق کار بنانا چاہتے ہیں۔گوگل کے کلسٹر ڈائریکٹر (پاکستان اور فرنٹیئر مارکیٹس)فرحان قریشی نے کہا کہ گوگل پاکستان کے مستقبل پر بھرپور یقین رکھتا ہے، اے آئی سیکھو جیسے اقدامات کے ذریعے ہم مقامی ایکو سسٹم میں مہارت اور رفتار پیدا کر رہے ہیں،اگر ہم پاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اے آئی مہارتوں کو فروغ دینا ہوگا۔گوگل ڈیپ مائنڈ DevX کے ہیڈ آف کمیونٹی امیت وادی نے کہا کہ گوگل میں اے آئی فرسٹ ہونے کا مطلب پہلی ذمہ داری ہے، ہمارا مقصد ایسی اے آئی بنانا ہے جو انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو اور اعلیٰ معیار کی حفاظت اور ذمہ داری کو یقینی بنائے۔ انوویسٹا کے سی ای او ہشام سرور نے کہا کہ پاکستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، فری لانس معیشت میں عالمی شناخت بنانے کے بعد اب وقت ہے کہ ہم اسے اعلیٰ معیار کی جدت میں تبدیل کریں۔ اے آئی سیکھوجیسے پروگرامز ہمیں صارفین سے تخلیق کار بننے کی جانب لے جاتے ہیں۔