کوئٹہ۔ 16 اپریل (اے پی پی):یونیورسٹی آف تربت کی اکیڈمک کونسل کا اٹھارہواں اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔وائس چانسلر نے معزز اراکین کا خیرمقدم کرتے ہوئے یونیورسٹی کی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں اکیڈمک کونسل کے ممبران کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی انتظامیہ تمام تعلیمی اور انتظامی امور کو یونیورسٹی ایکٹ اور متعلقہ قوانین کے مطابق چلانے کا پختہ عزم رکھتی ہے۔
معززاراکین کی جانب سے اٹھائے گئے ریمارکس پر وائس چانسلر نے متعلقہ شعبہ جات کے سربراہان کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاسوں میں پیش کیے جانے سے قبل تمام ایجنڈا آئٹمز، کارروائی اور سابقہ اجلاسوں کے منٹس کو مکمل اور جامع انداز میں تیار کرکے پیش کیاجائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر اجلاس کے منٹس مقررہ وقت کے اندر تمام اراکین کو نظرثانی اور دستخط کے لیے بھیج دئیے جائیں۔ ترجمان تربت یونیورسٹی کے مطابق وائس چانسلر نے یہ بھی ہدایت کی کہ تربت یونیورسٹی اور اس سے الحاق شدہ کالجوں میں پڑھائے جانے والے تمام تعلیمی پروگرامز کے نصاب متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیے جائیں تاکہ تعلیمی معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
کونسل نے سفارش کی کہ حکومت بلوچستان کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ایک مراسلہ ارسال کیا جائے جس میں یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کے لیے کالجوں کو درکار سہولیات فراہم کرنے کی سفارش کی جائے۔
وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے اندر اور دوسرے اداروں کے ساتھ بروقت اور موثر رابطہ کاری کو مزیدبہتراور مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس کے علاوہ اجلاس نے تمام تعلیمی پروگرامز میں اے آئی کورس شامل کرنے کی بھی منظوری دی۔اس سے قبل رجسٹرار گنگزار بلوچ نے بحث اور منظوری کے لیے ایجنڈا آئٹمز اجلاس کے سامنے پیش کیے۔ ا
ن میں گزشتہ اکیڈمک کونسل کے منٹس، سال 2026 کا تعلیمی کیلنڈر، انڈرگریجویٹ ٹرانسکرپٹ کا ڈیزائن، تعلیمی نصاب میں بہتری کی تجاویز، ریپیٹ امتحان کی پالیسی میں ترامیم، سمسٹر پروموشن کے رول کو جی پی اے سے سی جی پی اے نظام میں تبدیل کرنا، بورڈ آف فیکلٹی اجلاسوں کی سفارشات، یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کے لیے ایس او پیز اور قواعد و ضوابط، ایم فل/ایم ایس گریجویٹس کو ڈگریوں کی اجرا اور پی ایچ ڈی اسکالر کے داخلے کی منظوری شامل تھے۔
کونسل نے ہر ایجنڈا آئٹم پر تفصیلی غور کیا اور انہیں قواعد وضوابط کے مطابق نمٹادیا۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق اجلاس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ یونیورسٹی آف گوادر اور یونیورسٹی آف مکران، پنجگور کے قریب واقع کالجوں کو ان کی متعلقہ جامعات سے الحاق کی اجازت دی جائے۔اجلاس میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، ڈین فیکلٹی آف لٹریچر اینڈ لینگویجز ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ (تمغہ امتیاز)، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ڈاکٹر محمد طاہر حکیم، ڈین فیکلٹی آف لاء ڈاکٹر مظفر حسین، ڈین فیکلٹی آف بزنس اینڈ اکنامکس اور کونسل کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے نمائندے محمد علی بیگ اور حکومت بلوچستان کے شعبہ ہائر ایجوکیشن کے نمائندے ڈاکٹر منصور احمد نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔