نیشنل گرڈ کمپنی کی پاور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر میں آر او ڈبلیو سے متعلق مسائل پر لمز میں ورکشاپ

نیشنل گرڈ کمپنی کی پاور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر میں آر او ڈبلیو سے متعلق مسائل پر لمز میں ورکشاپ

اسلام آباد۔23اپریل (اے پی پی):نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (این جی سی) نے پاور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر میں رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو) سے متعلق مسائل پر لمز میں اپنی نوعیت کی پہلی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ تقریب میں قانونی ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں اور پاور سیکٹر سے وابستہ اہم سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی تاکہ منصوبوں کیلئے زمین کے حصول سے متعلق چیلنجز کے حل کے لئے نئے قانونی اور آپریشنل فریم ورک کی تشکیل کی راہ ہموار کی جا سکے جو پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام کی بروقت اور قابلِ اعتماد فراہمی کو متاثر کرتے ہیں۔ رائٹ آف وے سے متعلق مسائل خصوصاً ٹرانسمیشن لائنز اور متعلقہ انفراسٹرکچر کے لئے زمین کے حصول میں درپیش قانونی اور عملی مشکلات، پاکستان میں گرڈ کی توسیع کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں شامل ہیں۔ زمین کے حصول میں تاخیر نہ صرف لاگت میں اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ گرڈ کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے اور عوام تک سستی بجلی کی فراہمی میں تاخیر کا سبب بنتی ہے۔ یہ ورکشاپ ان چیلنجز کے حل کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے جہاں ماہرین کو یکجا کر کے اس مسئلے کا مؤثر اور منصفانہ حل تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ورکشاپ کا آغاز این جی سی کی چیف لا آفیسر ماریہ رفیق نے کیا اور اپنے ابتدائی کلمات میں ورکشاپ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے اسے پاکستان کی بڑھتی ہوئی ٹرانسمیشن ضروریات کے مطابق مؤثر گورننس ماڈل کی تشکیل کے لئے ایک مسلسل اور منظم کوشش کا آغاز قرار دیا۔ چیئرمین این جی سی بورڈ ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ صدیوں پرانے قانونی ڈھانچے میں اصلاح ناگزیر ہے، ہمیں ردِعمل پر مبنی انداز سے نکل کر پیشگی اقدامات کی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، چیلنجز کا ادراک پہلے سے کرنا ہوگا، اپنے نظام کو جدید بنانا ہوگا اور ایسے فریم ورک تشکیل دینا ہوں گے جو آج کی ترقیاتی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔ ورکشاپ کے دوران کی گئی گفتگو میں ایک اہم نکتہ 1894 کے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ (ایل اے اے ) میں اصلاح کی فوری ضرورت پر زور تھا جو کہ نوآبادیاتی دور کا قانون ہے اور آج بھی پاکستان میں زمین کے حصول کو ریگولیٹ کرتا ہے حالانکہ یہ موجودہ انفراسٹرکچر ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

مہمانِ خصوصی چیئرمین سی پی پی اے جی بورڈ عرفان علی نے اس بات پر زور دیا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں کیونکہ زمین مالکان کے ساتھ منصفانہ اور مساوی سلوک نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ ایک عملی ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصفانہ طرزِ عمل شکایات کو کم کرتا ہے، قانونی تنازعات میں کمی لاتا ہے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بناتا ہے۔ این جی سی کے قانونی مشیر ڈاکٹر داؤد منیر نے موجودہ قانونی فریم ورک پر تفصیلی پریذنٹیشن دی جس میں انہوں نے موجودہ نظام اور عملی ضروریات کے درمیان موجود خلا کو اجاگر کیا اور بڑے پیمانے پر ٹرانسمیشن منصوبوں کے لئے ایک جدید رائٹ آف وے فریم ورک کے اہم عناصر پیش کئے۔ بین الاقوامی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا جدید نظام جو عوامی مفاد اور شہری حقوق میں توازن قائم کرے، نہ صرف زیادہ منصفانہ اور عوام دوست ہوتا ہے بلکہ حکومتی ترقیاتی اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

ورکشاپ میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں، ای پی سی کنٹریکٹرز، ڈپٹی کمشنر آفس لاہور، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی، عالمی بینک اور سی پی پی اے-جی کے نمائندگان نے شرکت کرکے اپنی فیلڈ کے تجربات شیئر کئے اور عملی رکاوٹوں، قانونی خطرات اور طریقہ کار میں بہتری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تاکہ منصوبوں کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ منیجنگ ڈائریکٹر این جی سی انجینئر الطاف حسین ملک نے اختتامی کلمات میں قانون سازی اور داخلی اصلاحات کے لئے ادارے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ زمین کے حصول سے متعلق قوانین فرسودہ ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ نئے قوانین لانا ضروری ہے تاہم کسی بھی نئے فریم ورک کے تحت مؤثر انداز میں کام کرنے کیلئے صرف قانونی اصلاحات کافی نہیں، ہمیں اپنے داخلی نظام، منصوبہ بندی اور مقامی کمیونٹیز و زمین مالکان کے ساتھ روابط کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔