نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد کے دو اساتذہ، عالمی یونیووک نیٹ ورک میں صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کے نمائندوں کے طور پر مقرر

نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد کے دو اساتذہ، عالمی یونیووک نیٹ ورک میں صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کے نمائندوں کے طور پر مقرر

اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):یونیسکو-یونیووک انٹرنیشنل سینٹر برائے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کی جانب سے نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد کے دو اساتذہ کو عالمی یونیووک نیٹ ورک میں صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کے نمائندوں کے طور پر مقرر کر دیا گیا ہے، جسے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اور فنی تربیتی شعبے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔یونیسکو-یونیووک کی جانب سے یہ تقرریاں “جینڈر ایکویٹی اینڈ سوشل انکلوژن پروگرام 2026” کی کامیاب تکمیل کے بعد عمل میں آئیں، جس کا مقصد دنیا بھر کے فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں مساوی، جامع اور شمولیتی نظامِ تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ ڈاکٹر مریم سبحانی اور محمد بن قاسم کو اس عالمی اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا۔

یونیسکو-یونیووک کے اعلامیے کے مطابق دونوں نمائندگان نے پروگرام کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اب وہ اپنے ادارے سمیت عالمی یونیووک نیٹ ورک میں صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔بطور نمائندگان، دونوں ماہرین ادارہ جاتی پالیسیوں، تدریسی پروگرامز اور تربیتی سرگرمیوں میں شمولیتی اصولوں کے فروغ کے لیے کام کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ بین الاقوامی اشتراک، تحقیق، علم کے تبادلے اور مساوی تعلیمی مواقع کے فروغ سے متعلق مختلف منصوبوں کی نگرانی بھی کریں گے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی عالمی تقرریاں مستقبل کے ایسے اداروں کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوتی ہیں جو فنی مہارتوں کے ذریعے معاشرتی ناہمواریوں کو کم کرنے اور خواتین، محروم طبقات اور کم نمائندگی رکھنے والے افراد کو بہتر مواقع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

یہ اعزاز نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد کی بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی علمی و تعلیمی خدمات کا اعتراف بھی قرار دیا جا رہا ہے، جو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف، خصوصاً معیاری تعلیم، صنفی مساوات اور عدم مساوات کے خاتمے سے ہم آہنگ ہیں۔ جامعہ کے بانی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے دونوں نامزد شخصیات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف جامعہ بلکہ پاکستان کے فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی شعبے کے لیے بھی باعثِ افتخار ہے۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق یہ پیش رفت عالمی تعلیمی اصلاحات میں پاکستان کی فعال شرکت اور جامع فنی تعلیم و پائیدار انسانی ترقی کے حوالے سے عالمی سطح پر ملک کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔