اسلام آباد۔12مئی (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہائوسنگ و تعمیرات کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جون 2023ء سے مارچ 2026ء کے دوران مجموعی طور پر 14.485 ٹریلین روپے مالیت کی ریکوریز کی گئیں جن میں سرکاری و جنگلاتی اراضی کی واپسی اور ہائوسنگ و مالیاتی فراڈ کے متاثرین کو رقوم کی ادائیگی شامل ہے۔سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ہائوسنگ و تعمیرات نے چیئرمین سینیٹر ناصر محمود کی قیادت میں منگل کو نیب ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں کمیٹی کو ادارے کی کارکردگی بالخصوص ہائوسنگ سیکٹر میں حاصل ہونے والی پیش رفت اور اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں کمیٹی اراکین سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، سینیٹر خالدہ عطیب ، سینیٹر حسنیٰ بانو، سینیٹر جان محمد اور سینیٹر نسیمہ احسان کے علاوہ وزارت ہائوسنگ کے سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وائٹ کالر کرائم کے خلاف کارروائیوں کو موثر بنانے کے لیے ادارے میں اہم اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی شکایتی سیل قائم کیا گیا ہے تاکہ ابتدائی مرحلے پر شکایات کی جانچ پڑتال ممکن بنائی جا سکے اور جھوٹی شکایات کی حوصلہ شکنی ہو۔ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر، پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ، ڈی جی نیب راولپنڈی/اسلام آباد وقار احمد چوہان اور ڈی جی سپیشل انویسٹی گیشن ڈویژن محمد طاہر نے بھی کمیٹی کو جاری تحقیقات، قانونی اصلاحات اور آپریشنل اقدامات سے آگاہ کیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پارلیمنٹیرینز، بیوروکریسی اور نجی شعبے کے لیے الگ سہولتی مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ تحقیقات کے عمل کو تیز اور موثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔ نیب نے اندرونی احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ سعودی عرب، ملائیشیا، نائیجیریا اور دیگر ممالک کے انسداد کرپشن اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیب نے ہائوسنگ اور مالیاتی فراڈ کے ایک لاکھ 29 ہزار سے زائد متاثرین کو 223.94 ارب روپے واپس کیے جبکہ منی لانڈرنگ سے متعلق 127 ارب روپے مالیت کے 39 بڑے مقدمات پر کام جاری ہے جن میں سے 85.4 ارب روپے کے اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں۔
سوال و جواب کے سیشن کے دوران کمیٹی ارکان نے سرکاری و نجی ہائوسنگ منصوبوں میں بدعنوانیوں اور ان کی روک تھام کے اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ ہائوسنگ سیکٹر میں جدید اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں جن سے شفافیت بڑھے گی اور بدعنوانی کے امکانات میں نمایاں کمی آئے گی۔دورے کے اختتام پر سینیٹر ناصر محمود نے نیب کی شفافیت اور احتساب کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہائوسنگ منصوبوں کو استحصال سے پاک رکھنے اور بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔