نوجوان جدید مہارتوں اور عالمی معیار کی اسناد کے ذریعے عالمی سطح پر مسابقتی افرادی قوت بن سکتی ہے، خالد مقبول صدیقی

نوجوان جدید مہارتوں اور عالمی معیار کی اسناد کے ذریعے عالمی سطح پر مسابقتی افرادی قوت بن سکتی ہے، خالد مقبول صدیقی

بیجنگ۔16مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے پاکستان اور چین کے درمیان فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے میں انقلابی شراکت داری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی نوجوان آبادی جدید مہارتوں اور عالمی معیار کی اسناد کے ذریعے عالمی سطح پر مسابقتی افرادی قوت بن سکتی ہے۔ہفتہ کوانہوں نے بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے زیر اہتمام منعقدہ ’’بلڈنگ پارٹنرشپس فار اسکلز ڈیولپمنٹ اینڈ اکیڈمیا۔انڈسٹری کولیبریشن‘‘ کے عنوان سے ٹی وی ای ٹی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کے تعاون سے بڑے پیمانے پر تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

سمپوزیم میں انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام تعاون پر خصوصی توجہ دی گئی جس میں دونوں ممالک کے حکومتی عہدیداروں، تعلیمی اداروں اور صنعتی نمائندوں نے شرکت کی۔وفاقی وزیر نے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور ان کی ٹیم کی پاکستان اور چین کے درمیان مہارتوں کی ترقی اور تکنیکی تعلیم میں عملی اور شعبہ جاتی تعاون کے فروغ کی کوششوں کو سراہا۔خالد مقبول صدیقی نے پاکستان کی آبادیاتی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 150ملین سے زائد نوجوان موجود ہیں جو ایک بڑا موقع بھی ہیں اور ایک اہم چیلنج بھی۔

انہوں نے کہا کہ مناسب تربیت اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفکیشن کے ذریعے پاکستانی نوجوان نہ صرف ملک کے لیے’’گیم چینجر‘‘ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ عمر رسیدہ معاشروں اور ترقی پذیر معیشتوں میں ہنرمند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی عالمی ضرورت بھی پوری کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ پاکستانی افرادی قوت دنیا بھر میں چین کی قیادت میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے اور دونوں ممالک کےدرمیان ’’بامقصد، نتیجہ خیز اور کامیاب شراکت داری‘‘ کی ضرورت پر زور دیاجن کے تعلقات 75 سالہ دوستی پر مبنی ہیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان کے دورہ چین کا مقصد ورلڈ ڈیجیٹل ایجوکیشن کانفرنس میں شرکت بھی ہے جو چین کے وزیر تعلیم کی دعوت پر ہانگژو میں منعقد ہو رہی ہے۔

انہوں نے دورے کے دوران چین کے نائب وزیر تعلیم اور مختلف صوبائی تعلیمی حکام سے مستقبل کی تعلیمی شراکت داری پر ملاقاتیں بھی کیں۔انہوں نے 1998 میں بطور وزیر صنعت و پیداوار اپنے پہلے دورہ چین کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت انہوں نے چینی حکام کے ساتھ 11 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے جن میں پاکستان اسٹیل ملز کی جدیدکاری اور پاکستان بھر میں انجینئرنگ و صنعتی شعبوں کے متعدد سینٹرز آف ایکسیلنس کے قیام سے متعلق معاہدے شامل تھے۔چین کی گزشتہ دہائیوں میں ہونے والی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج کا چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہےجو بین الاقوامی سیاست،علاقائی خوشحالی، امن اور استحکام میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کا ’’سب سے پہلا اور اہم دوست اور اتحادی‘‘ہے جبکہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان خطے میں ہم آہنگی، توازن اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی معاشی توازن اور خوشحالی کا مرکز مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے اوردونوں ممالک کو مل کر اس تبدیلی کو صرف ممکن ہی نہیں بلکہ مستقل بنانا ہوگا۔انہوں نے چینی تعلیمی اداروں اور صنعتوں کو پاکستان کے ساتھ تعاون کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہنرمندافرادی قوت کی تیاری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔انہوں نے تعلیم، ٹیکنالوجی اور فنی تربیت کے شعبوں میں پاکستان اور چین کے درمیان طویل المدتی اور کامیاب تعاون کی امید ظاہر کرتے ہوئے اپنے خطاب کا اختتام کیا۔