ملتان۔ 18 اپریل (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے ڈاکٹر عتیق انور خان، سربراہ شعبہ آنکولوجی، نشتر ہسپتال ملتان اور ڈاکٹر الیاس سندیلا، ماہر امراض چشم (آئی سرجن) نشتر ہسپتال ملتان نے ملاقات کی۔ ملاقات میں نشتر ہسپتال میں قائم کیے جانے والے جدید کینسر سینٹر کی پیش رفت، سہولیات اور آئندہ توسیعی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اس بات کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا کہ 2010 میں بطور وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب کے کینسر مریضوں کے لیے جدید علاج کی سہولیات فراہم کرنے کا تاریخی اقدام کرتے ہوئے نشتر ہسپتال ملتان میں کینسر سینٹر کے قیام کی بنیاد رکھی تھی۔
ان کا یہی وژن آج حکومتِ پنجاب کی معاونت سے عملی تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے منصوبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نشتر میں قائم ہونے والا یہ جدید کینسر سینٹر جنوبی پنجاب کے لاکھوں افراد کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو معیاری اور جدید طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔نشتر ہسپتال میں قائم کیا جانے والا یہ جدید کینسر سینٹر 100 سے زائد بستروں پر مشتمل ہوگا، جہاں کینسر کی تشخیص، علاج اور نگہداشت کی مکمل سہولیات ایک ہی چھت تلے دستیاب ہوں گی۔ اس سینٹر کی نمایاں خصوصیت جدید پی ای ٹی سکین مشین کی تنصیب ہے، جو پنجاب میں اپنی نوعیت کی پہلی سہولت ہوگی۔
چیئرمین سینیٹ نے جنوبی پنجاب میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کو مدنظر رکھتے ہوئے ریڈیوتھراپی سہولیات میں مزید بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ سینٹر میں ایک مزید لینیئر ایکسیلیریٹر مشین شامل کی جائے تاکہ مریضوں کو بروقت اور موثر علاج فراہم کیا جا سکے۔مزید برآں سید یوسف رضا گیلانی نے جدید ٹیکنالوجی جیسے سائبر نائف سسٹم کی تنصیب کی بھی سفارش کی، تاکہ ملتان میں ہی کینسر کے مریضوں کو عالمی معیار کا علاج دستیاب ہو اور انہیں دیگر بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔آ
خر میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف ان کے دیرینہ وژن کی تکمیل ہے بلکہ جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے ایک انقلابی قدم بھی ہے، جو خطے میں صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔