نامور اردو نقاد، ماہرِ لسانیات، مؤرخ ڈاکٹر جمیل جالبی کی برسی ہفتہ کو منائی گئی

نامور اردو نقاد، ماہرِ لسانیات، مؤرخ ڈاکٹر جمیل جالبی کی برسی ہفتہ کو منائی گئی

اسلام آباد۔18اپریل (اے پی پی):نامور اردو نقاد، ماہرِ لسانیات، مؤرخ، سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی، چیئرمین ادارہ فروغ قومی زبان ،صدر اردو لُغت بورڈ ڈاکٹر جمیل جالبی کی برسی ہفتہ 18 اپریل کو منائی گئی۔ ان کا سب سے اہم کام قومی انگریزی اردو لغت کی تدوین اور تاریخ ادب اردو، ارسطو سے ایلیٹ تک، پاکستانی کلچر:قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ جیسی اہم کتابوں کی تصنیف و تالیف ہے۔ڈاکٹرجمیل جالبی 12 جون 1929 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد جمیل خان ہے۔ ان کے آباء و اجداداٹھارویں صدی میں سوات سے ہجرت کر کے بھارت میں آباد ہوئے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے والد محمد ابراہیم خاں میرٹھ میں پیدا ہوئے۔

ڈاکٹر جمیل جالبی نے پاکستان اور بھارت کے مختلف شہروں میں تعلیم حاصل کی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے حاصل کی اور 1943میں گورنمنٹ ہائی سکول سہارنپور سے میٹرک کیا۔ میرٹھ کالج سے 1945میں انٹر اور 1947میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ کالج کی تعلیم کے دوران جمیل جالبی کو ڈاکٹر شوکت سبزواری، پروفیسر غیور احمد رزمی اور پروفیسر کرار حسین جیسے استاد ملے جنھوں نے ان کی ادبی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ اردو ادب کے صف اول کے صحافی سید جالب دہلوی اور جمیل جالبی کے دادا ہم زلف تھے۔ محمد جمیل خاں نے کالج کی تعلیم کے دوران ہی ادبی دنیا میں قدم رکھ دیا ۔ ان دنوں ان کا آئیڈیل سید جالب تھے۔

اسی نسبت سے انھوں نے اپنے نام کے ساتھ جالبی کا اضافہ کر لیا۔تقسیم ہند کے بعد 1947میں ڈاکٹر جمیل جالبی اور ان کے بھائی عقیل پاکستان آ گئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ ان کے والد بھارت سے دونوں بھائیوں کے تعلیمی اخراجات کے لیے رقم بھیجتے رہے۔ بعد ازاں جمیل جالبی کو بہادر یار جنگ ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹری کی پیش کش ہوئی جسے انھوں نے قبول کر لیا۔

جمیل جالبی نے دوران ملازمت ایم اے اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کئے۔ اس کے بعد 1972میں سندھ یونیورسٹی سے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان کی نگرانی میں قدیم اُردو ادب پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی اور 1978 میں مثنوی کدم راؤ پدم راؤ پر ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں سی ایس ایس کے امتحان میں شریک ہوئے اور کامیاب ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے والدین کو بھی پاکستان بلا لیا۔ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد باقاعدہ طور پر ادبی سرگرمیوں میں مصروف ہوئے۔ قبل ازیں انھوں نے ماہنامہ ساقی میں معاون مدیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنا ایک سہ ماہی رسالہ نیا دور بھی جاری کیا۔

ڈاکٹر جمیل جالبی 1983میں کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور 1987 میں ادارہ فروغ قومی زبان کے چیئرمین تعینات ہوئے۔ اس کے علاوہ 1990سے 1997تک اردو لغت بورڈ کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی تصانیف میں قومی انگریزی اردو لغت،جانورستان ( جارج آرول کے ناول کا ترجمہ)،پاکستانی کلچر:قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ،تاریخ ادب اردو،تنقید و تجربہ،نئی تنقید،ادب کلچر اور مسائل،محمد تقی میر،معاصر ادب،قومی زبان یک جہتی نفاذ اور مسائل،قلندر بخش جرأت لکھنوی تہذیب کا نمائندہ شاعر،مثنوی کدم راؤ پدم راؤ،دیوان حسن شوقی،دیوان نصرتی،قدیم اردو کی لغت،فرہنگ اصلاحات جامع عثمانیہ،میرا جی ایک مطالعہ،ن م راشد – ایک مُطالعہ،ایلیٹ کے مضامین (ترجمہ)،ارسطو سے ایلیٹ تک،حیرت ناک کہانیاں سمیت دیگر تصانیف شامل ہیں۔

ڈاکٹر جمیل جالبی کو علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 1964، 1973، 1974 اور 1975 میں داؤد ادبی انعام، 1987میں یونیورسٹی گولڈ میڈل، 1989 میں محمد طفیل ادبی ایوارڈ اور حکومت پاکستان کی طرف سے 1990میں ستارۂ امتیاز اور 1994 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر جمیل جالبی کو 2015 میں پاکستان کے سب سے بڑے ادبی انعام کمال فن ادب انعام سے نوازا گیا۔ڈاکٹر جمیل جالبی 18 اپریل 2019 کو کراچی میں وفات پا گئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی ، ادبی، صحافتی اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔