مکہ مکرمہ میں دنیا کا سب سے بڑا خودکار مذبح خانہ تیار، 17ہزار تجربہ کار قصاب اور یومیہ 3 لاکھ قربانیوں کی صلاحیت

مکہ مکرمہ میں دنیا کا سب سے بڑا خودکار مذبح خانہ تیار، 17ہزار تجربہ کار قصاب اور یومیہ 3 لاکھ قربانیوں کی صلاحیت

خرم شہزاد

مکہ مکرمہ۔12مئی (اے پی پی):سعودی عرب کا حج 2026 کے دوران عازمین کے لیے قربانی کے عمل کو سہل، شفاف اور شرعی اصولوں کے مطابق بنانے کے لیے مکہ مکرمہ میں قائم سٹیٹ آف دی آرٹ ‘اضاحی سلاٹر ہاؤس’ حجاج کی طلب کے مطابق لاکھوں جانوروں کی قربانی کے لئے مکمل طور پر تیار ہے ۔

یہ منصوبہ ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا خودکار نظام بن چکا ہے جہاں 17 ہزار قصابوں سمیت 25 ہزار ملازمین کی نگرانی میں یومیہ 3 لاکھ جانوروں کی قربانی، جدید پیکنگ اور کولڈ سٹوریج کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ عازمینِ حج محض 720 ریال کے عوض نسک ایپ یا مجاز بینکوں سے کوپن حاصل کر کے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جس کی تکمیل پر انہیں فوری طور پر ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع فراہم کر دی جاتی ہے۔

یہ بات ڈپٹی سپروائزر ‘اضاحی پراجیکٹ’ سراج محمد نے 100 سے زائد غیر ملکی صحافیوں کو مذبح خانے کے دورے کے موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے بتایا کہ 10 آپریشنل مقامات پر مشتمل اس کمپلیکس میں قربانی کا عمل سخت معیار سے گزرتا ہے، سب سے پہلے جانور کی صحت اور شرعی عمر (کم از کم 6 ماہ) کا معائنہ کیا جاتا ہے، 9 کلو گرام سے کم وزن کے جانور کو مسترد کر دیا جاتا ہے، ذبیحہ کے بعد گوشت کو جدید پلانٹ کے ذریعے دھو کر اڑھائی کلو کے کاٹنز میں پیک کیا جاتا ہے۔

سٹوریج کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ منفی 25 ڈگری درجہ حرارت والے 20 بڑے فریزرز کے علاوہ گراؤنڈ فلور پر مرکزی کولڈ سٹوریج موجود ہے جہاں 7 لاکھ جانوروں کا گوشت محفوظ کرنے کی گنجائش ہے، یہ گوشت 8 نکاتی معیار پر پورا اترنے والے 27 مستحق ممالک کو بحری جہازوں کے ذریعے بھیجا جاتا ہے۔

سراج محمد کے مطابق حج 2026 کے لیے اب تک 8 لاکھ قربانیوں کی ڈیمانڈ موصول ہو چکی ہے، عازمین کی سہولت کے لیے نسک، احسان اور جاھز جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز فعال ہیں۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ فی الوقت صرف بھیڑ کی قربانی کی اجازت ہے جبکہ اونٹ اور گائے کی قربانی معطل ہے۔

گزشتہ برس 20 ہزار انفرادی حجاج سمیت مجموعی طور پر 60 فیصد عازمین نے اس سرکاری پراجیکٹ کے ذریعے قربانی کا فریضہ ادا کیا تھا۔