موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک معاشی، سماجی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا

موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک معاشی، سماجی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا

پشاور۔ 18 مئی (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے موسمیاتی تبدیلی کو سنگین چیلنج قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک معاشی، سماجی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان عالمی آلودگی میں کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی آفات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز گورنر ہاوس پشاور میں کلائمیٹ جسٹس کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا. کانفرنس میں سابق سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کرامت اللہ چغرمٹی، پروفیسر ڈاکٹر قبلہ آیاز، کانفرنس کے آرگنائزر محمد بلال سیٹھی، شہید بینظیر بھٹو وویمن یونیورسٹی پشاور ، ویمن یونیورسٹی مردان کے وائس چانسلرز پروفیسر ڈاکٹر صفیہ احمد، پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ، آئی ایم سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان غنی، ماہرین موسمیاتی تبدیلی اور طلباء و طالبات نے شرکت کی. کانفرنس میں ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے اپنی تجاویز اور آراء پیش کیں.

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے موسمیاتی بحران کی سنگینی کو پوری دنیا پر واضح کر دیا جبکہ پاکستان کو پانی کی قلت، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، سیلاب اور خشک سالی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی معیشت، غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ گورنر نے گرین اکانومی کی جانب پیش رفت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی اور گرین انڈسٹریز میں سرمایہ کاری سے نہ صرف ماحولیاتی بہتری آئے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے نوجوانوں کو پاکستان کے پائیدار اور گرین مستقبل کی اصل طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دو تہائی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے انہیں گرین مہارتوں سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان ماحولیاتی شعور، ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور مستقبل کی موسمیاتی پالیسیوں میں انہیں مرکزی حیثیت دینا ہوگی. گورنر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی اور موسمیاتی فنڈز تک منصفانہ رسائی فراہم کی جائے اور موسمیاتی خطرات کو عالمی امن اور انسانی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے۔ اس کانفرنس کو عملی اقدامات، شراکت داری اور مؤثر پالیسی سازی کا ذریعہ بنانا ہوگا تاکہ ایک ماحولیاتی طور پر مضبوط، معاشی طور پر مستحکم اور سماجی طور پر مساوی پاکستان کی تعمیر ممکن بنائی جا سکے۔

گورنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گورنر ہاؤس پشاور کے دروازے مثبت اور پائیدار اقدامات کے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے اور ماحولیات کے تحفظ و پائیدار ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔محمد بلال سیٹھی نے گورنر ہاوس پشاور میں اس اہم موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پر گورنر کا شکریہ ادا کیا اور کانفرنس کی اہمیت پر روشنی ڈالی. آخر میں گورنر نے مباحثہ کے شرکاء میں شیلڈز اور منتظمین میں تعریفی اسناد تقسیم کیں جبکہ محمد بلال سیٹھی نے گورنر کو سوینئر پیش کیا.