اسلام آباد۔28اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پائیدارمعاشی استحکام کی جانب ہمارا سفرجاری ہے،معاشی شعبے میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات پرعمل پیرا ہیں ، جاری مالی سال مجموعی قومی پیداوارمیں نموکی شرح 4فیصدکے قریب رہنے کی توقع ہے،ملکی صنعتوں کومسابقتی بنانے کےلئے ٹیرف کومعقول بنایاگیا،برآمدی صنعتوں کی ترقی کےلئے خام مال پرٹیکسوں اورڈیوٹیز میں کمی کی گئی ہے۔ منگل کویہاں یورپی یونین ۔پاکستان اعلیٰ سطحی بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ پائیدارمعاشی استحکام کی جانب ہمارا سفرجاری ہے،معاشی شعبے میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات پرعمل پیراہیں ،پائیداراقتصادی ترقی کےلئے معاشی اصلاحات ناگزیرہیں۔ پاکستان اوریورپی یونین کے درمیان تعلقات کاحوالہ دیتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ یورپی یونین پاکستان کی برآمدات کےلئے مفید منڈی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چند ماہ سے کلی معیشت مستحکم ہورہی ہے، مالیاتی لحاظ سے پاکستان نے پرائمری سرپلس حاصل کیاہے،مجموعی قومی پیداوارمیں نمو کے حوالے سے پاکستان بہترپوزیشن میں ہے، اس سال کے آغاز میں ہم نے بتایاتھا کہ ہماری جی ڈی پی کی نموکی شرح 3.7فیصد سے 4.7فیصدکے درمیان ہوسکتی ہے،اس سال ہماری جی ڈی پی 4فیصدکے قریب ہوسکتی ہے جوگزشتہ سال کے 3.1فیصدکے مقابلہ میں بہت بہتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حسابات جاریہ کے کھاتوں کی صورتحال بھی بہترہے، مالی سال کے پہلے 9ماہ میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن 174ملین ڈالر فاضل رہا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1.755 ارب ڈالر فاضل تھا، مارچ میں حسابات جاریہ کے کھاتے 1.070 ارب ڈالر فاضل ریکارڈ کئے گئے جوفروری میں 231ملین ڈالر فاضل اورگزشتہ سال مارچ میں 1.276 ارب ڈالر فاضل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی سال کے پہلے 9ماہ میں بنیادی خسارہ(پرائمری بیلنس)6.331 ارب ڈالر ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 6.829 ارب ڈالر کے مقابلے میں 7فیصدکم ہے،مارچ میں پرائمری خسارہ 607ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ ملکی برآمدات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کاحصہ مسلسل بڑھ رہاہے، آئی ٹی کی برآمدات میں مالی سال کے پہلے 9ماہ کے دوران سالانہ بنیاد پر20فیصد اورمارچ میں ماہانہ بنیاد پر13فیصد اضافہ ہوا ،مالی سال کے پہلے 9ماہ میں آئی ٹی کی برآمدات سے ملک کو3.39ارب ڈالرزرمبادلہ حاصل ہواجوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20فیصدزیادہ ہے،اسی طرح مارچ میں آئی ٹی برآمدات کاحجم 413ملین ڈالرریکارڈکیاگیا جوفروری کے365ملین ڈالرکے مقابلے میں 13فیصد اورگزشتہ سال مارچ کے 329ملین ڈالرکے مقابلے میں 21فیصدزیادہ ہے ،اڑان پاکستان پروگرام کے تحت مالی سال 2029تک آئی ٹی کی برآمدات کاہدف 10ارب ڈالرمقرر کیا گیاہے۔
انہوں نے کہاکہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹس سے ترسیلات زر اورسرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہورہاہے،اس وقت 90فیصدکی قریب ترسیلات ڈیجیٹل طریقے سے ہورہی ہے،مارچ میں سمندر پار پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے ذریعے 261 ملین ڈالر زرمبادلہ ملک ارسال کیا، ستمبر 2020 سے اب تک سمندر پار پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے ذریعے 12.426 ارب ڈالر کا زرمبادلہ ملک ارسال کیا ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں نے اس دوران ان اکائونٹس کے ذریعے ملک میں 1.737 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ،ان اکائونٹس کے ذریعے نیا پاکستان روایتی سرٹیفکیٹ میں 538 ملین ڈالر ، اسلامی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں 1.093 ارب ڈالر اور سٹاک ایکسچینج میں 106 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری پرحاصل منافع کی منتقلی بھی ہورہی ہے جوپائیدار اورمستحکم ہوتی معیشت کی عکاسی کررہی ہے ، پاکستان نے طویل عرصہ کے بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں شمولیت اختیارکی ، اس سال پاکستان اپنا پہلا پانڈابانڈ بھی جاری کررہاہے جس کےلئے انتظامات اوراقدامات کاسلسلہ جاری ہے، حکومت نے یورپی بانڈز کی بروقت ادائیگی بھی کردی ہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ جاری مالی سال کے اختتام پرسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائرکو18ارب ڈالرتک لانے کاہدف مقررکیاہے جوتین ماہ کی درآمدات کے کےلئے کافی ہے۔انہوں نے کہاکہ معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کاعمل مسلسل جاری ہے،ٹیکس کے نظام میں پیپل،پراسیس اورٹیکنالوجی کی بنیادپراصلاحات ہورہی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کی بنیادمیں وسعت اورجی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کےلئے کام جاری ہے جس کے اچھے اثرات سامنے آئے ہیں، جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہورہاہے اورہماری کوشش ہے کہ اسے بتدریج بین الاقوامی معیار کے مطابق لایاجائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی صنعتوں کومسابقتی بنانے کےلئے کسٹم ڈیوٹی ،ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی اورریگولیٹری ڈیوٹیز کی شرح میں کمی ، برآمدی صنعتوں کی ترقی کےلئے خام مال پرٹیکسوں اورڈیوٹیز میں کمی کی گئی۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کاعمل جاری ہے،گردشی قرضوں میں کمی اورڈسکوز کی کارگردگی میں بہتری کےلئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں جن کے بہترنتائج سامنے آرہے ہیں ،سبسڈیز میں بھی کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت کے حجم میں کمی(رائٹ سائزنگ) بارے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، سبسڈیز کے غلط استعمال پریوٹیلی سٹورز کارپویشن سمیت کئی اداروں کوبندکیاگیاہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت اس بات پریقین رکھتی ہے کہ نجی شعبےکوملک کی قیادت کرنی ہے،اس ضمن میں نجکاری کاعمل جاری ہے، پی آئی اے اورفرسٹ ویمن بینک کی نجکاری ہوئی ،یہ بات خوش آئند ہے کہ نجکاری کے عمل میں ہمارے مقامی سرمایہ کاروں نے گہری دلچسپی ظاہر کی جس سے معاشی ترقی ، اصلاحات کے عمل اوربہترپالیسیوں پرسرمایہ کاروں کے اعتمادکی عکاسی ہورہی ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ قرضوں کے انتظام وانصرام میں بہتری کےلئے بھی کام جاری ہے، ڈیبٹ منیجمنٹ آفس کی ری سٹرکچرنگ کی گئی ہے، قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں بتدریج کمی آئےگی، پنشن کے نظام میں بھی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں،سول سروس میں کنٹریبیوٹری پنشن کانظام متعارف کرایاگیاہے،آئندہ سال سے مسلح افواج میں یہ نظام متعارف کرایا جائے گا۔