محصولات میں اضافہ اور موثر نفاذ حکومت کے مالیاتی اصلاحاتی پروگرام کے بنیادی ستون ہیں،وفاقی وزیر خزانہ و محصولات کی پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

محصولات میں اضافہ اور موثر نفاذ حکومت کے مالیاتی اصلاحاتی پروگرام کے بنیادی ستون ہیں،وفاقی وزیر خزانہ و محصولات کی پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد۔25مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ محصولات میں اضافہ اور موثر نفاذ حکومت کے مالیاتی اصلاحاتی پروگرام کے بنیادی ستون ہیں،حکومت پالیسی میں تسلسل اور تعمیل کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں وزارت خزانہ میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی (پی ٹی سی) کے وفد سے ملاقات میں کہی۔ وفد کی قیادت ایریا ڈائریکٹر و جنرل منیجر پاکستان عثمان ظہور کر رہے تھے جبکہ وفد میں مارکیٹنگ، کارپوریٹ امور اور مالیاتی معاملات سے متعلق سینئر نمائندگان بھی شامل تھے۔ملاقات کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے حکومت کے وسیع تر مالیاتی اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالی جس کا مقصد محصولات میں اضافہ، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، نفاذ کے نظام کو موثر بنانا اور ٹیکنالوجی پر مبنی شفاف نظام کے ذریعے مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس انتظامیہ میں جاری اصلاحات جو افراد، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی پر مرکوز ہیں، کی تعمیل کو بہتر بنانے، مالیاتی بے ضابطگیوں کو کم کرنے، اور معیشت کے تمام شعبوں میں منصفانہ محصولات کی وصولی یقینی بنانے کے لیے متعارف کرائی جا رہی ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام اور متعلقہ اداروں کی مربوط کارروائیوں کی بدولت نفاذ کے اقدامات مزید موثر ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں تعمیل اور محصولات کی وصولی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چینی، سیمنٹ، مشروبات، ٹیکسٹائل اور تمباکو سمیت مختلف صنعتوں میں نفاذی اقدامات غیر قانونی اور غیر دستاویزی معاشی سرگرمیوں کی روک تھام میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔پی ٹی سی کے وفد نے حکومت کی اصلاحاتی اور نفاذی کوششوں کو سراہتے ہوئے تمباکو کے شعبے سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں ایکسائز ٹیکس، غیر قانونی تجارت، مارکیٹ کی صورتحال اور برآمدی مسابقت شامل تھے۔ وفد نے غیر قانونی اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف حالیہ اقدامات کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ رسمی معیشت کے فروغ اور پائیدار محصولات کے حصول کے لیے ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ٹیکس نظام ناگزیر ہے۔ گفتگو کے دوران ریگولیٹری اور ٹیکس سے متعلق امور، شعبہ جاتی مسابقت، مارکیٹ رجحانات اور غیر دستاویزی معیشت میں سرگرم غیر قانونی مصنوعات کے حصے کو کم کرنے کے لیے موثر نفاذ کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے مابین مربوط نفاذی نظام کے حوالے سے بھی آرکا تبادلہ کیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ محصولات میں اضافہ اور موثر نفاذ حکومت کے مالیاتی اصلاحاتی پروگرام کے بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پالیسی میں تسلسل اور تعمیل کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے تاہم ہر شعبے سے متعلق تجاویز کا جائزہ مجموعی مالیاتی اہداف اور قومی اقتصادی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا جائے گا۔اجلاس میں تمباکو کے شعبے اور اس سے متعلق ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدی صلاحیت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی گفتگو ہوئی۔ وفد نے بعض مصنوعات کے لیے پاکستان کے علاقائی مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز کے طور پر کردار کو اجاگر کیا اور بین الاقوامی منڈیوں میں موجود مواقع کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے۔ اس کے علاوہ علاقائی سطح پر نفاذ، ٹیکس ماڈلز اور دیگر مماثل مارکیٹوں میں رائج ضابطہ جاتی طریقۂ کار سے متعلق تجربات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے وفد کی تجاویز اور آراکو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت رسمی کاروباری شعبے کے ساتھ مسلسل مشاورت جاری رکھے گی تاکہ سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی سرگرمیوں اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار میں آسانی، تعمیل کے موثر نظام اور زیادہ شفاف و مسابقتی اقتصادی ماحول کے قیام کے لیے اصلاحاتی عمل جاری رکھے گی۔