مالیاتی جرائم کے خلاف حکومت کا غیر متزلزل عزم برقرار ،قومی معیشت کے تحفظ کیلئے ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے، چیئرمین نیب

مالیاتی جرائم کے خلاف حکومت کا غیر متزلزل عزم برقرار ،قومی معیشت کے تحفظ کیلئے ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے، چیئرمین نیب

اسلام آباد۔16اپریل (اے پی پی):چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ مالیاتی جرائم کے خلاف حکومت پاکستان کا غیر متزلزل عزم برقرار ہے اور قومی معیشت کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز نیب کے زیرِ اہتمام اینٹی منی لانڈرنگ تفتیشی طریقۂ کار اور عالمی فریم ورک پر منعقدہ تربیتی کورس اور تکنیکی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ جدید طرز حکمرانی کی پیچیدگیوں کے پیش نظر ضروری ہے کہ نیب کے افسران نہ صرف روایتی تفتیشی مہارت رکھتے ہوں بلکہ بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار سے بھی مکمل طور پر آگاہ ہوں۔

چیئرمین نیب نے پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (پاکا) کو ادارے کی بدعنوانی کے خلاف جنگ میں ایک اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2026ء کا تربیتی پروگرام ادارہ جاتی تعاون کے فروغ اور افسران کو عالمی چیلنجز سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

قومی احتساب بیورو کے خصوصی تربیتی شعبے پاکا کے زیر اہتمام سالانہ تربیتی منصوبہ 2026 کے تحت منعقدہ اس کورس کا مقصد تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کو منی لانڈرنگ کے جدید رجحانات اور متعلقہ قوانین کے بارے میں جامع آگاہی فراہم کرنا تھا۔

تربیتی سیشنز کے دوران ماہرین نے شرکا کو عالمی و قومی اینٹی منی لانڈرنگ و انسداد دہشت گردی فنانسنگ (اے ایم ایل/سی یف ٹی ) فریم ورک پر تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے منی لانڈرنگ کیسز سے متعلق ترمیم شدہ تفتیشی طریقہ کار، شواہد کے حصول اور ادارہ جاتی تعاون کے پروٹوکولز پر روشنی ڈالی۔

نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر احسان صادق نے ایف اے ٹی ایف (فیٹف) معیارات پر پاکستان کی پیش رفت اور کارپوریٹ گورننس میں رسک بیسڈ اپروچ کی اہمیت پر سیشن لیا۔

سپیشل انویسٹی گیشن ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل محمد طاہر نے انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت اثاثوں کی نشاندہی اور غیر قانونی دولت کے خلاف کارروائی کے طریقہ کار پر تفصیلی گفتگو کی۔فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی ڈپٹی ڈائریکٹر نور السحر نے مشکوک مالیاتی لین دین کی نشاندہی میں مالیاتی انٹیلی جنس کے کردار پر روشنی ڈالی۔

تقریب کے دوران ایک عملی ورکشاپ بھی منعقد کی گئی جس میں ’’نیب کے اہم منی لانڈرنگ مقدمات کا فرضی ٹرائل‘‘ کروایا گیا جس میں ریمانڈ، گواہوں کے بیانات اور جائیداد کی ضبطگی سمیت مختلف قانونی مراحل کی عملی تربیت دی گئی۔

پراسیکیوٹر جنرل اکائونٹیبلٹی سید احتشام قادر شاہ نے تربیتی پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی عملی مشقیں ادارے کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل پاکا غلام صفدر شاہ نے کہا کہ اکیڈمی کا مقصد مالیاتی تحقیقات، فرانزک تجزیے اور عالمی معیار کے مطابق تفتیشی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔