مالک مکان کی ذاتی ضرورت اگر بیان حلفی سے ثابت ہو جائے اور جرح میں اسے جھٹلایا نہ جا سکے تو عدالتیں ایسے موقف کو درست تصور کریں گی، سپریم کورٹ

مالک مکان کی ذاتی ضرورت اگر بیان حلفی سے ثابت ہو جائے اور جرح میں اسے جھٹلایا نہ جا سکے تو عدالتیں ایسے موقف کو درست تصور کریں گی، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔12مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کرایہ داری مقدمات میں مالک مکان کی ذاتی ضرورت اگر بیان حلفی اور شواہد سے ثابت ہو جائے اور جرح میں اسے جھٹلایا نہ جا سکے تو عدالتیں ایسے موقف کو درست تصور کریں گی۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت نے مزید آبزرو کیا کہ جان بوجھ کر کرایہ اور واجبات ادا نہ کرنا ’’ارادی ڈیفالٹ‘‘ کے زمرے میں آتا ہے جبکہ معمولی تکنیکی غلطی کو ڈیفالٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔سپریم کورٹ میں پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی اور ڈاکٹر حسن فاطمہ کے درمیان کرایہ داری تنازع سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ، رینٹ کنٹرولر اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ڈاکٹر حسن فاطمہ کی اپیل سماعت کیلئے منظور کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ مالک مکان نے موقف اختیار کیا تھا کہ کرائے کی عمارت غریب اور نادار افراد کیلئے جرمن اور برطانوی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے تعاون سے فلاحی اسپتال قائم کرنے کیلئے درکار ہے۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ اس ذاتی ضرورت کے موقف کو موثر انداز میں چیلنج نہیں کیا گیا اور نہ ہی جرح کے دوران اسے غلط ثابت کیا جا سکا۔

فیصلے کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ مالک مکان کی ذاتی ضرورت سے متعلق بیان اگر مستقل، واضح اور ناقابل تردید ہو تو مزید ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ماضی کے متعدد عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ مالک مکان پر یہ لازم نہیں کہ وہ مجوزہ کاروبار یا منصوبے کی مکمل تفصیلات یا تجربہ ثابت کرے۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 18 اگست 2011ء کے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت کرایہ میں سالانہ 10 فیصد اضافے پر فریقین متفق ہوئے تھے تاہم کرایہ دار اس معاہدے کے مطابق ادائیگی نہ کر سکی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایم او یو پر دستخط سے انکار نہیں کیا گیا اور یہ موقف قابل قبول نہیں کہ دستاویز پڑھے بغیر دستخط کیے گئے۔سپریم کورٹ نے آبزرو کیا کہ پانی اور کنزروینسی چارجز کی ادائیگی بھی کرایہ دار کی ذمہ داری تھی مگر واجبات ادا کرنے کے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ عدالت کے مطابق ابتدائی طور پر عدم ادائیگی ثابت کرنا مالک مکان کی ذمہ داری ہوتی ہے تاہم اس کے بعد کرایہ دار پر لازم ہے کہ وہ رسیدیں یا دیگر دستاویزی ثبوت پیش کرے کہ ادائیگی کی جا چکی ہے۔

فیصلے میں سپریم کورٹ نے ’’ڈیفالٹ‘‘ اور ’’ارادی ڈیفالٹ‘‘ کی قانونی تشریح بھی بیان کی اور کہا کہ جان بوجھ کر، مسلسل اور بلاجواز عدم ادائیگی ارادی ڈیفالٹ تصور ہوگی جبکہ کسی حقیقی غلط فہمی یا تکنیکی وجہ سے ہونے والی تاخیر کو ہر صورت میں ارادی ڈیفالٹ نہیں کہا جا سکتا۔