لاہور اور فتح جنگ ضلع اٹک میں 166سفید پوش گھرانوں کی بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا انعقاد کیا گیا، گورنر پنجاب

لاہور اور فتح جنگ ضلع اٹک میں 166سفید پوش گھرانوں کی بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا انعقاد کیا گیا، گورنر پنجاب

لاہور۔14مئی (اے پی پی):گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ جب دو سال قبل انہوں نے گورنر پنجاب کا حلف لیا تو یونیورسٹیوں کی اپیلیں دو سال التوا کا شکار تھیں، اب ہم 2026میں ہیں اور یونیورسٹیاں بھی کیو ایس ریکنگ میں بہتر پوزیشن میں ہیں۔ صوبائی محتسب کی جانب سے موصول تین سال سے زیر التوا اپیلیں نمٹائی گئیں۔ فلاحی ادارے کے تعاون سے فتح جنگ اور حسن ابدال میں بلڈ بینک اور ڈائلسز سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ چنیوٹ، چکوال اور حافظ آباد میں مخیر حضرات کے تعاون سے میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا۔ گورنر ہاؤس لاہور میں ٹرانسجینڈرز میں 05لاکھ تک کی مالیت کے ہیلتھ کارڈز، لیپ ٹاپس اور راشن بیگز تقسیم کیے گئے۔ وہ جمعرات کو گورنر ہائوس میں دوسالہ کارکردگی پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

گورنرپنجاب نے کہا کہ لاہور اور فتح جنگ ضلع اٹک میں 166سفید پوش گھرانوں کی بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا انعقاد کیا گیا۔گورنر پنجاب نے کہا کہ مخیر حضرات کے تعاون سے پنڈی گھیب میں جلد 100 بچیوں کی شادی کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع اٹک کی پسماندہ اور دور دراز تحصیلوں میں مخیر حضرات کے تعاون سے طلبا میں لیپ ٹاپس کی تقسیم کیے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیلاب متاثرین کے لیے ریڈ کریسنٹ کے ذریعے راشن کی ترسیل کی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس لاہور میں میلاد کی محافل کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں افرد نے شرکت کی۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ میلاد میں گورنر ہاؤس کے ملازمین سمیت شرکا ءمیں قرعہ اندازی کے ذریعے عمرے کے ٹکٹس تقسیم کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ میلاد کے موقع پر گزشتہ سال 38 اوراس سال 76عمرے کے ٹکٹ دیئے گئے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ لاہور میں بی بی پاک دامن کے مزار پر سولر سسٹم لگایا گیا۔گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ پاکستان میں انویسٹمنٹ لانا چاہ رہے ہیں ، ہمیں سرمایہ داروں کا اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں ٹریفک جرمانوں کے بل میں ترمیم اچھا اقدام ہے جس کیلئے پنجاب حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی اعتبار سے ٹاپ کے ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ نئی آئینی ترامیم ضروری ہیں، ہونی چاہئیں لیکن 1973کے آئین کی روح کے مطابق ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات اور طلبہ یونین کے انتخابات بھی ہونے چاہئیں۔ گورنر پنجاب نے کہاکہ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کی ریٹائرمنٹ سے پہلے نئی تعیناتی کے لیے کام شروع کر دینا چاہئے۔