قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس، موبائل فون ٹیکس نظام کا جائزہ لینے کی ہدایت

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس، موبائل فون ٹیکس نظام کا جائزہ لینے کی ہدایت

اسلام آباد۔16اپریل (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائےخزانہ ومحصولات نے موبائل فونز پر موجودہ ٹیکس ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے تاکہ معقول ومنصفانہ، صارفین کی استطاعت اور مقامی صنعت کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے، کمیٹی نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور بیگیج رولز 2006 کے تحت دستیاب استثنیٰ کے مؤثر ہونے کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا 23واں اجلاس جمعرات کو یہاں چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔کمیٹی کو موبائل فونز پر عائد ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کردہ موبائل فونز پر لاگو ٹیکس نظام سے آگاہ کیا گیا جس میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی شرحیں شامل ہیں۔

بریفنگ میں مکمل طور پر تیار شدہ اور جزوی طور پر تیار شدہ موبائل فونز کی درآمدات پر ان کی مقررہ قیمت کے مطابق ٹیکس ڈھانچے کی وضاحت کی گئی، ساتھ ہی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی متعلقہ دفعات کا بھی حوالہ دیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ نابینا افراد کے لیے درآمد کیے جانے والے موبائل فونز اور ذاتی سامان (بیگیج رولز) کے تحت لائے جانے والے موبائل فونز پر بعض قانونی استثنیٰ موجود ہیں، جبکہ موبائل فونز کی قیمت اور درجہ بندی کے مطابق سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد سے 25 فیصد تک مقرر ہے۔ چیئرمین سید نوید قمر نے اس صورتحال پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ انکم ٹیکس کو بھی سیلز ٹیکس کے طور پر برتا جا رہا ہے۔

انہوں نے ٹیکس پالیسی آفس کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے کر موجودہ ٹیکس شرحوں کے جواز، محصولات پر اثرات اور پالیسی مقاصد کے بارے میں ایک جامع تحریری نوٹ پیش کرے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ موجودہ ٹیکس ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے تاکہ انصاف، صارفین کی استطاعت اور مقامی صنعت کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور بیگیج رولز 2006 کے تحت دستیاب استثنیٰ کی مؤثریت کا بھی جائزہ لیا جائے۔کمیٹی نے خصوصی اقتصادی زونز (ترمیمی) ایکٹ 2026(حکومتی بل) پر غور کیا اور متفقہ طور پر سفارش کی کہ ترمیم کے بعد اس بل کو قومی اسمبلی سے منظور کیا جائے۔

کمیٹی نےپارلیمانی بجٹ آفس بل 2025جسے رکن قومی اسمبلی رانا ارادت شریف خان نے بطور نجی رکن بل پیش کیا، پر غور کیا اور متفقہ طور پر سفارش کی کہ ترمیم کے بعد اس بل کو قومی اسمبلی سے منظور کیا جائے۔اسی طرح کمیٹی نےایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2026(حکومتی بل) پر غور کیا اور متفقہ طور پر سفارش کی کہ ترمیم کے بعد اس بل کو قومی اسمبلی سے منظور کیا جائے۔ک

کمیٹی نے نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2025 (حکومتی بل)، مالی ذمہ داری و قرض حد بندی (ترمیمی) ایکٹ 2026، مالیاتی ادارے (ریکوری آف فنانس) ترمیمی ایکٹ 2026، اور نیشنل کاؤنٹر فِٹ کرنسی کنٹرول اتھارٹی بل 2026 جسے رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمٰانی نے پیش کیا، پر غور مؤخر کرتے ہوئے انہیں کمیٹی کے آئندہ اجلاس تک ملتوی کر دیا۔کمیٹی نے اپنے گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی متفقہ طور پر توثیق بھی کر دی۔

اجلاس میں رانا ارادت شریف خان، سید سمیع الحسن گیلانی، علی زاہد، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، مرزا اختیار بیگ، ارشد عبداللہ وہرا، محمد جاوید حنیف خان اور شاہدہ بیگم نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیرمملکت خزانہ بلال اظہر کیانی،وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ، ، اسپیکر قومی اسمبلی کے مشیر برائے قانون سازی و پارلیمانی امور، سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر، اور وزارت خزانہ، ریونیو ڈویژن اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے۔