اسلام آباد۔17مئی (اے پی پی):عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کی غیر محفوظ تلفی سے صحت کے متعدد مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔معروف پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر سکندر اقبال نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک بڑے جانور سے اوسطاً 40 تا 60 کلو گرام جبکہ چھوٹے جانور سے 20 تا 30 کلو گرام آلائشیں پیدا ہوتی ہیں جو قابل استعمال نہیں ہوتیں جن میں ہڈیاں، انتڑیاں ، اوجڑی اور چربی وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے دوران قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کےلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ قربانی کے جانوروں کے فضلہ سے پیدا ہونے والی گندگی ، تعفن اور مہلک بیماریوں سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ قربانی کے جانوروں کے فضلہ کو کھلی جگہوں یا نالوں میں پھینکنے سے تعفن کے ساتھ ساتھ گندگی کے نتیجہ میں مکھیوں اور مچھروں کی افزائش ہوتی ہے ، فضلے سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، اسہال اور سانس کی بیماریوں کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ جانوروں کی آلائشوں کو ندی نالوں میں پھینکنے سے آبی ذخائر بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قربانی کے جانوروں کے فضلے کو مناسب طریقے سے ویسٹ بیگز میں بند کر کے مقررہ مقامات پر رکھنا چاہئے اور اگر فضلہ کو بروقت نہ اٹھایا جائے تو شکایت مراکز یا ہیلپ لائنز پر رابطہ کرنا چاہئے تاکہ متعلقہ ادارے آلائشوں کو بروقت ٹھکانے لگا سکیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ شہری حکومتوں کو چاہئے کہ عید قربان کے ایام میں موبائل ویسٹ ٹرانسفر اسٹیشنز قائم کئے جائیں تاکہ آلائشوں کو بروقت مقررہ مقامات پر پہنچا کر تلف کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ سماجی آگاہ کےلئے کثیر الجہتی مہم بھی ناگزیر ہے اور اس حوالے سے مساجد کے آئمہ کرام عوام کو صفائی کی شرعی اہمیت سے آگاہ کریں جبکہ میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے مختصر ویڈیوز اور اشتہارات کے ذریعے عوام کو آلائشیں محفوظ طریقے سے تلف کرنے کی تربیت دی جائے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ سکولوں اور کالجوں کے طلبا کو کلین عید مہم کا حصہ بنا کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے جہاں پر صفائی صرف ایک مہم نہیں ہو گی بلکہ ایک مستقل طرز زندگی ہوگا