پشاور۔ 11 مئی (اے پی پی):محکمہ اوقاف و مذہبی امور خیبر پختونخوا نے محکمانہ نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی، سمارٹ اٹینڈنس سسٹم کی حکم عدولی اور فرائض میں غفلت برتنے پر صوبہ بھر سے مجموعی طور پر 46 ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر اوقاف خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق فارغ کئے جانے والے ملازمین کا تعلق پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک، بنوں اور ایبٹ آباد سے ہے جن میں ایک خاتون اسسٹنٹ، جونیئر کلرکس، نائب قاصد، خطیب، مساجد کے خدام اور چوکیدار شامل ہیں۔
ایڈمنسٹریٹراوقاف ڈاکٹرمحسن حبیب کے مطابق انکوائری رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ضلع کرک میں تعینات ایک ملازم نے نہ صرف تبادلے کے احکامات کی خلاف ورزی کی بلکہ متعلقہ جگہ رپورٹ کرنے کے بجائے اپنے آبائی علاقے میں نجی کاروبار چلانے میں مصروف پایا گیا جبکہ وہ باقاعدگی سے سرکاری خزانے سے تنخواہ بھی وصول کر رہا تھا، اسی طرح ڈی آئی خان میں ایک جونیئر کلرک کے خلاف’’فیشل ریکگنیشن‘‘ (چہرے کی شناخت) سسٹم میں دھوکہ دہی ثابت ہوئی جہاں مذکورہ اہلکار خود غائب رہتا تھا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا شخص حاضری لگا رہا تھا۔
پشاور دفتر میں تعینات خاتون اسسٹنٹ، جونیئر کلرک اور دیگر عملہ متعدد بار وارننگ کے باوجود سمارٹ حاضری سسٹم پر رجسٹرڈ نہ ہونے اور مسلسل غیر حاضری پر فارغ کیا گیا ہے، مجموعی طور پر برطرف کئے گئے ان 46 ملازمین میں وہ اہلکار بھی شامل ہیں جو ایبٹ آباد اور دیگر اضلاع میں 6 سے 7 ماہ تک بغیر اطلاع ڈیوٹی سے غائب رہے،ایڈمنسٹریٹراوقاف کے مطابق مہلت دیئے جانے کے باوجود ڈیوٹی پر واپس نہ آنے اور جدید حاضری کے نظام کو نہ اپنانے والوں کے خلاف یہ کارروائی ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولزکے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ سیکرٹری اوقاف و مذہبی امورعطاء الرحمان نے کہا کہ سرکاری خزانے سے تنخواہ لے کر نجی کاروبار کرنے اور حاضری میں ہیرا پھیری کرنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی ۔