عید الاضحیٰ کے موقع پر اسلام آباد میں صفائی کا خصوصی آپریشن جاری، پہلے روز 1807 ٹن سے زائد آلائشیں تلف

عید الاضحیٰ کے موقع پر اسلام آباد میں صفائی کا خصوصی آپریشن جاری، پہلے روز 1807 ٹن سے زائد آلائشیں تلف

اسلام آباد۔28مئی (اے پی پی):وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں عید الاضحیٰ کے موقع پر صفائی و ستھرائی کے لیے خصوصی آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے۔ سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عید کے پہلے دو روز کے دوران شہر بھر میں آلائشیں اٹھانے، تلف کرنے اور صفائی کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کیے گئے۔سی ڈی اے کے مطابق عیدالاضحیٰ کے پہلے روز اسلام آباد میں ایک لاکھ سے زائد چھوٹے اور بڑے جانور قربان کیے گئے جبکہ مجموعی طور پر 1807.868 ٹن آلائشیں اور فضلہ تلف کیا گیا۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق پہلے روز تقریباً 65 ہزار سے زائد چھوٹے جبکہ 44 ہزار سے زائد بڑے جانور قربان کیے گئے۔

انتظامیہ کے مطابق عید کے دوسرے روز بھی 2000 سے زائد صفائی عملہ اور 200 سے زائد جدید گاڑیاں و مشینری مختلف علاقوں میں خدمات سرانجام دےس رہی ہیں۔ صفائی آپریشن کو موثر بنانے کیلئے اسلام آباد کو پانچ مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ آلائشیں تلف کرنے کیلئے شہر کے مختلف مقامات پر 89 سائٹس پر 151 گڑھے کھودے گئے ہیں۔شہریوں کی شکایات اور فوری رابطے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن 1334 اور واٹس ایپ نمبر 0335-5001213 بھی فعال رکھا گیا ہے۔

چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایت پر موصول ہونے والی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنایا جا رہا ہے۔سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ ذبح خانوں اور آلائشوں سے پیدا ہونے والی بدبو اور تعفن کے خاتمے کیلئے عرقِ گلاب، فنائل، چونے اور پانی کا مسلسل چھڑکائو کیا جا رہا ہے جبکہ صفائی آپریشن کی مرکزی نگرانی اسلام آباد سیف سٹی کمپلیکس سیکٹر ایچ الیون میں قائم کنٹرول روم سے کی جا رہی ہے۔

انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جانوروں کی آلائشیں، اوجھڑیاں اور دیگر فضلہ نالوں، کھلے مقامات اور جنگلات میں نہ پھینکا جائے بلکہ فراہم کردہ بائیو ڈیگریڈ ایبل بیگز میں رکھ کر مقررہ مقامات پر رکھا جائے تاکہ متعلقہ عملہ بروقت انہیں اٹھا سکے۔

چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد نے کہا ہے کہ خصوصی صفائی آپریشن عیدالاضحیٰ کے تیسرے روز تک جاری رہے گا اور شہریوں کے تعاون سے اسلام آباد کو زیرو ویسٹ سٹی بنانے کے ہدف کے حصول کیلئے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔