اسلام آباد۔26مئی (اے پی پی):مذہبی اسکالرز اور علمائے کرام نے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کو اسلامی سال کے مقدس ترین ایام قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ ان ایام کو عبادت، روزہ، صدقہ اور اللہ کے ذکر کے لیے وقف کیا جائے۔ انہوں نے ان ایام کی مذہبی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ذوالحجہ عام طور پر قربانی اور عید الاضحیٰ کی تیاریوں سے منسلک ہے لیکن اس کے گہرے روحانی پیغام پر اکثر لوگ کم توجہ دیتے ہیں۔ وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے ترجمان محمد عمر بٹ نے’’ اے پی پی ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ذو الحجہ کے پہلے دس دن قرآن و حدیث کی روشنی میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی کیلنڈرکا آخری مہینہ ذوالحجہ کو اسلام سے پہلے بھی مقدس سمجھا جاتا تھا جبکہ اسلام نے اس کی حرمت کو مزید بلند کیا، خاص طور پر پہلے دس دنوں کو۔ سورۃ الفجر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے آیات “صبح کی قسم، اور دس راتوں کی” کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے مطابق “دس راتوں” سے مراد ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان راتوں کی قسم اٹھانا ،ان کی عظمت اور بلندی کی عکاسی کرتا ہے۔ مسند احمد کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی دن افضل نہیں اور نہ ہی ان دنوں میں کیے جانے والے نیک اعمال اللہ کے نزدیک ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں کیے جانے والے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں۔محمد عمر بٹ نے اہلیان اسلام پر زور دیا کہ ان دنوں میں لا الہ الا اللہ ، اللہ اکبر اور الحمدللہ کا زیادہ سے زیادہ ذکر کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے مطابق ان مقدس ایام میں نیک اعمال کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔9 ذی الحجہ یوم عرفہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اسلام میں سب سے زیادہ فضیلت والے دنوں میں سے ہے جبکہ ذوالحج کے مبارک ایام کا اختتام عید الاضحیٰ کے ساتھ ہوتا ہے جب دنیا بھر کے مسلمان اللہ کی اطاعت میں قربانیاں پیش کرتے ہیں اور عقیدت اور سر تسلیم خم کرنے کے جذبہ کا اظہار کرتے ہیں۔’’اے پی پی ‘‘سے گفتگو میں جماعت اسلامی خواتین ونگ اسلام آباد کی سیکرٹری اطلاعات سعدیہ سیف نے ماہ مقدس کی روحانی اہمیت اور برکات پر زور دیا اورکہا کہ پہلے عشرہ میں عبادت، توبہ، صدقہ اور اللہ کے ذکر میں اضافہ کریں۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں چار مہینوں کو مقدس قرار دیا ہے جن میں ذوالحجہ، ذوالقعدہ، محرم اور رجب شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو ان مقدس مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔انہوں نے نمازیوں کو 9 ذوالحجہ کی فجر سے لے کر 13 ذو الحجہ کی عصر تک فرض نمازوں کے بعد تکبیرات پڑھنے کی بھی یاد دہانی کرائی۔ اختتام پر انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ ان بابرکت ایام سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں، دوسروں کی مدد کریں اور ایسے کاموں سے گریز کریں جن سے انسانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔ حافظہ اور اسلامی اسکالر عائشہ نے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کو سال کے سب سے بابرکت ایام قرار دیا اور اس دوران عبادات سے وابستہ بے پناہ اجروثواب پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ ان دنوں میں روزہ رکھنا غیر معمولی ثواب کا باعث ہے، حدیث کے مطابق پہلے عشرہ میں ایک دن کا روزہ پورے سال کے روزوں کے برابر ہے جبکہ راتوں کی عبادت لیلۃ القدر کی عبادت کے برابر ہے۔
حضرت عائشہؓ نے خاص طور پر 9 ذو الحجہ کے روزے پر زور دیا جسے عرفہ کا دن کہا جاتا ہے، جو پچھلے اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔انہوں نے پر زور دیا کہ ان بابرکت ایام میں ذکر الٰہی، تکبیر اور تہلیل کی تلاوت، نماز، صدقہ اور قرآن پاک کی تلاوت میں اضافہ کریں۔مذہبی طریقوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یکم سے 9 ذو الحجہ تک نفلی روزے رکھنے کی تلقین کی جاتی ہے جبکہ 10 ذوالحج عید الاضحیٰ کے دن روزہ رکھنا ممنوع ہے۔قربانی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذوالحجہ کی 10، 11 اور 12 تاریخوں میں قربانی مالی طور پر اہل مسلمانوں پر فرض ہے اور ان دنوں میں سب سے بڑی عبادت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عازمین کے لیے یہ دن خاص طور پر اہم ہیں کیونکہ وہ حج کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔انہوں نے مسلمانوں کو گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال میں اضافہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ صدقہ، رضاکارانہ دعائیں، خاندانی تعلقات قائم رکھنا، والدین کی خدمت کرنا اور ذوالحجہ کے مقدس دنوں میں اللہ سے معافی مانگنا چاہئے۔