لاہور۔29مئی (اے پی پی):عدالت عالیہ نے کلاسک گلوکار راحت فتح علی خان کو وراثتی جائیداد تنازعہ کیس میں کورٹ فیس جمع نہ کرانے پر اپیل خارج کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے اپیل بحال کرتے ہوئے درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے راحت فتح علی خان کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔ راحت فتح علی خان نے فیصل آباد میں ایک کنال9 مرلہ ڈبل اسٹوری مکان پر قبضے کی تصدیق کے لیے سول عدالت سے رجوع کیا تھا تاہم سول عدالت نے14 مئی2019 کو ان کے خلاف ڈگری جاری کردی۔
راحت فتح علی خان نے سول عدالت کے فیصلے کے خلاف ٹرائل کورٹ میں اپیل دائر کی لیکن ٹرائل کورٹ نے15 ہزار روپے کورٹ فیس جمع نہ کرانے پر اپیل تکنیکی بنیادوں پر خارج کردی، جس پر راحت فتح علی خان نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیاعدالت نے قرار دیا کہ محض کورٹ فیس جمع نہ کرانے پر اپیل خارج کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے صرف تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر اپیلوں کو مسترد کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے کورٹ فیس جمع کرانے کے لیے صرف 4 دن کا وقت دیا جو ناکافی تھا۔ عدالت نے فریقین کو2 جون کو متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو دو ماہ میں بغیر کسی غیر ضروری التوا کے اپیل پر میرٹ کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔