عالمی ثالثی عدالت کے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ضمنی فیصلہ میں پاکستان کے مؤقف کی تائید، بھارت کو سبکی کا سامنا

عالمی ثالثی عدالت کے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ضمنی فیصلہ میں پاکستان کے مؤقف کی تائید، بھارت کو سبکی کا سامنا

اسلام آباد۔17مئی (اے پی پی):قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس کی توثیق کرتے ہوئے دی ہیگ میں مستقل ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے مؤقف کے تائید میں جاری ضمنی فیصلہ سے بھارت عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب ہوا اور اسے سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ضمنی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت مغربی دریاؤں پر اپنے پن بجلی منصوبوں میں طے شدہ حدود سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ فیصلے نے بھارت پر دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے بہاؤ کو ذخیرہ کرنے یا متاثر کرنے کی صلاحیت پرسخت پابندیوں کو واضح کیا ہے ۔ یہ دریا پاکستان کی زراعت، معیشت اور کروڑوں لوگوں کے روزگار کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ پاکستان کی واضح کامیابی ہے کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ سندھ طاس معاہدے کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار پر عمل کیا، جبکہ بھارت یکطرفہ اقدامات اور گریز کی پالیسی اپناتا رہا۔یہ پیش رفت اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل قرار دینے کے متنازع فیصلے کے تناظر میں سامنے آئی ہے حالانکہ معاہدے میں ایسی کسی شق کی گنجائش موجود نہیں۔پاکستان طویل عرصے سے بھارتی آبی منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے ۔ پاکستان کا یہی موقف رہا ہے کہ بھارت جان بوجھ کر زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو معاہدے کی اُن شقوں کی خلاف ورزی ہے جن کے تحت صرف رن آف دی ریور نوعیت کے منصوبوں کی اجازت ہے اور بڑے پیمانے پر پانی ذخیرہ کرنے کی ممانعت ہے۔

پاکستان نے معاہدے میں موجود مضبوط تنازعاتی نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے معاملہ پی سی اے میں اٹھای جس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی حدود سے متعلق یہ ضمنی فیصلہ سامنے آیا۔ اس فیصلے نے بین الاقوامی قانونی اصولوں سے انحراف کے معاملے پر بھارت کی تنہائی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ایک سیکیورٹی تجزیہ کار کاکہنا ہے کہ اب ہر سنجیدہ قانونی فورم بھارت کو یہی پیغام دے رہا ہے کہ وہ بیرونِ ملک قانون پر مبنی عالمی نظام کی بات کرے اور اپنے رویّے میں معاہدوں کی خلاف ورزی کرے، یہ قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا مسئلہ اب صرف پاکستان نہیں بلکہ وہ بڑھتا ہوا بین الاقوامی ریکارڈ ہے جو معاہدوں، ثالثی اور قانونی ضابطوں کے حوالے سے اس کے رویّے پر سوالات اٹھا رہا ہے۔تجزیہ کار کے مطابق جہاں پاکستان نے قانون، طریقہ کار اور معاہدے کے تقدس کا بھرپور احترام کیا وہیں بھارت نے گریز، دباؤ اور بین الاقوامی سطح پر سبکی کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ دنیا یہ سب دیکھ رہی ہے اور قانونی ریکارڈ مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔

اس ضمنی فیصلے کے ساتھ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سرحد پار معاملات کے پُرامن اور قانون پر مبنی حل کے لیے پرعزم ہے جبکہ بھارت عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے اُس معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے قائم ہے۔