اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کا چین کا دورہ پاکستان اور چین کے تعلقات کے فروغ کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل رہا،رواں سال پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، ہنگور آبدوز کی کمیشنگ تقریب ایک بڑی پیش رفت ہے،دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے لئے دفاع، زراعت، صحت، صنعتی تعاون اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں 5 مفاہمتی یادداشتوں اور ایک معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ منگل کو ایوان صدر میں صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی اور پریس سیکرٹری دانیال گیلانی کے ہمراہ پریس بریفنگ میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ رواں سال پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے جس کے باعث یہ سال دونوں ممالک کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم، وزیر خارجہ اور چین کی مختلف اعلیٰ شخصیات کے دورے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں جبکہ دونوں ممالک اس تاریخی سال کو خصوصی اہمیت دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے پاک چین تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششیں آج کی نہیں بلکہ 2008ء سے جاری ہیں جبکہ تاریخی طور پر شہیدذوالفقار علی بھٹو کے اقدامات بھی اس سلسلے میں اہم سمجھے جاتے ہیں۔ سینیٹر سلیم مانڈی والا نےکہا کہ اس کے دو بڑے مقاصد تھے، پہلا مقصد آبدوزوں کے منصوبے سے متعلق تھا جس کے مذاکرات صدر آصف علی زرداری نے اپنے دور صدارت میں 2012ء میں شروع کیے تھے جبکہ اس معاہدے پر 2015ء میں پاکستان اور چین کے درمیان دستخط ہوئے۔ بعض تکنیکی مسائل کے باعث اس منصوبے میں تاخیر ہوئی تاہم گزشتہ سال اس کی ترسیل کے حوالے سے پیش رفت واضح ہوئی۔ صدر آصف علی زرداری نے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنے اگلے دورہ چین کے دوران خود ہنگور آبدوز کی کمیشننگ تقریب میں شرکت کریں جو ان کے لیے ایک جذباتی لمحہ بھی تھا کیونکہ وہ اس منصوبے کو مسلسل فالو کرتے رہے تھے۔ب
ریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صدر آصف علی زرداری کی ایک دیرینہ خواہش چیئرمین مائو کے گھر اور یادگار کا دورہ کرنا بھی تھی جسے چینی حکومت نے بہت سراہا۔ صدر آصف علی زرداری چیئرمین مائو کے گھر گئے، ان کی قبر پر پھول چڑھائے اور انہیں اس حوالے سے واحد صدر قرار دیا گیا جنہوں نے چیئرمین مائو کے گھر کا دورہ کیا۔صدر آصف علی زرداری کے وژن کے مطابق صوبائی سطح پر چین کے مختلف صوبوں، ان کے پارٹی سیکرٹریز، گورنرز اور میئرز کے ساتھ روابط کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ چین کے بعض صوبوں کی معیشت کئی ٹریلین ڈالر پر مشتمل ہے اور ہر صوبہ کسی نہ کسی مخصوص شعبے جیسے فرنیچر، مشینری، ایرو سپیس یا زراعت میں مہارت رکھتا ہے،ہنان صوبے کے دورے کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ چین کی ’’بریڈ باسکٹ‘‘ کہلاتا ہے اور زراعت کا بڑا مرکز ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے وہاں مختلف کمپنیوں اور زرعی اداروں کا دورہ کیا۔ ہنان کے فری زون ماڈل کو بھی چین کے لیے اہم قرار دیا گیا۔بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستانی فلموں کو چین میں متعارف کرانے کے لیے صدر مملکت نے خصوصی دلچسپی لی۔ اسی سلسلے میں فلم ’’مولا جٹ‘‘ کا چینی زبان میں پریمیئر چین میں منعقد ہوا جبکہ اس کی کمرشل ریلیز 21 مئی کو متوقع ہے۔ حکام کے مطابق یہ پاک چین ثقافتی تعاون میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔سینیٹرسلیم مانڈوی والا نے کہا کہ دورے کے دوران متعدد مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر بھی دستخط کیے گئے۔ کراچی میں پانی کی قلت دور کرنے کے لیے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے منصوبے پر معاہدہ کیا گیا جس کے تحت 50 ایم جی ڈی کا پلانٹ لگایا جائے گا۔زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے لیے بھی ایم او یوز سائن کئے گئے تاکہ کسانوں کو جدید تعلیم اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔چین کی ایک بڑی چائے بنانے والی کمپنی کے ساتھ بھی مذاکرات ہوئے جس نے پاکستان میں چائے کی کاشت کے امکانات کا جائزہ لینے میں دلچسپی ظاہر کی۔
حکام کے مطابق پاکستان سالانہ اربوں ڈالر کی چائے درآمد کرتا ہے جبکہ چین چاہتا ہے کہ پاکستان اپنی چائے خود پیدا کرے۔مزید برآں چینی مشینری کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کی دعوت دی گئی جبکہ ویکسین سازی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ سندھ حکومت کے ساتھ ایک حیاتیاتی تحقیقاتی ادارے کے قیام کا معاہدہ کیا گیا جہاں جانوروں میں ’’فٹ اینڈ مائوتھ‘‘ بیماری کی ویکسین تیار کی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت جانوروں کی ٹریک اینڈ ٹریس ویکسینیشن کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ ہر جانور کی ویکسینیشن کا مکمل ریکارڈ رکھا جا سکے۔اس کے علاوہ میڈیکل انٹیلیجنٹ روبوٹکس اور کلینیکل ایپلیکیشنز بھی ایک بہت دلچسپ شعبہ ہے۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا چین میں عمومی طور پر روبوٹس کا استعمال کافی بڑھ رہا ہےاور مختلف شعبوں میں روبوٹس متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ یہ بھی ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جسے پاکستان میں لانے کی خواہش ہے۔
اس حوالے سے کچھ مشترکہ مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) اور معاہدوں پراس دورے کے دوران سائیڈ لائن پر دستخط کیے گئے ہیں۔صدر مملکت نے پہلی مرتبہ ایک سول ایوارڈ ڈاکٹر پین کو دیا جو پاکستان میں صدر مملکت کی دعوت پر آئے تھے۔ ڈاکٹر پین نے بچوں میں دل اور ہڈیوں کی بیماریوں کے دو کامیاب آپریشنز کیے۔ میں خود بھی ان سے ملا ہوں۔ انہوں نے یہ ٹیکنالوجی اس لیے تیار کی کیونکہ اکثر ایسے بچے جو دل کی بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، ان کا مناسب علاج دستیاب نہیں ہوتا۔جب وہ پاکستان آئے تو اے ایف آئی سی میں انہوں نے تقریباً 20 سے 25 بچوں کا علاج کیا اور اللہ کے فضل سے وہ سب صحتیاب ہو چکے ہیں۔ وہ آئندہ بھی پاکستان آئیں گے اور یہاں کے کارڈیک سرجنز کو تربیت بھی دیں گے اور ان کے ساتھ مل کر آپریشنز کریں گے تاکہ وہ بھی یہ تکنیک سیکھ سکیں۔
صدر مملکت نے یہ اعزاز نہایت فخر کے ساتھ دیا اور یہ پہلا صدارتی ایوارڈ تھا جو کسی غیر ملکی ماہر کو دیا گیا۔ یہ ایوارڈ پہلے صدر کے دورہ چین میں دینے کے لیے مختص تھا، مگر یہاں پاکستان میں دیا گیا۔ چینی فریق نے بھی اس اقدام کو بہت سراہا۔جب صدر مملکت یہ ایوارڈ دے رہے تھے تو انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ہمارے لوگوں کے درمیان تعلقات تو پہلے سے ہیں لیکن اب ہمارے درمیان ’’ہارٹ ٹو ہارٹ کانٹیکٹ‘‘ بھی قائم ہو رہا ہے۔