اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے 79ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات اور بین الاقوامی اشتراک ناگزیر ہے۔وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ مختلف چیلنجز کے باوجود پاکستان نے صحت کے شعبے میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ ماں اور بچے کی شرحِ اموات میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں بھی اضافہ ہوا ہے۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج (یو ایچ سی) انڈیکس 40 فیصد سے بڑھ کر 56 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ پاکستان نے تپِ دق، ایچ آئی وی، ملیریا، ڈینگی اور ہیپاٹائٹس جیسے متعدی امراض کے خلاف اقدامات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ پاکستان کی اولین قومی ترجیح ہے اور اس ضمن میں عالمی معاونت قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جلد پولیو فری ملک بننے کے ہدف کے قریب ہے۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ 10 سالہ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن سٹریٹیجی پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے اور ملک میں علاج پر مبنی نظام سے احتیاط کے نظام کی جانب اہم پیش رفت کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اپنی پہلی قومی ویکسین پالیسی کی منظوری دے دی ہے جبکہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لیے قومی و بین الاقوامی شراکت داریوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ متعدی امراض کے خلاف قومی اقدامات کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے 188 میڈیکل کالجز ہر سال 22 ہزار سے زائد ڈاکٹرز تیار کر رہے ہیں جو نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے عالمی برادری پر زور دیا کہ انسانی سرمائے میں مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تاکہ صحت کے شعبے میں پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔