راولپنڈی / لاھور۔ نمایندہ نوائے وقت
جب کسی سیاسی جماعت کی جانب سے اپنے کارکن کو عزت، مقام اور ذمہ داری دی جاتی ہے تو وہ کارکن بھی مان، احترام اور خلوص کے ساتھ اپنی تمام تر توانائیاں عوامی خدمت اور نچلی سطح تک اختیارات و توجہ پہنچانے میں صرف کرتا ہے۔ “صاف ستھرا پنجاب” اس وقت ایک بڑا اور منفرد منصوبہ بن کر سامنے آیا ہے، جسے عوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ اس منصوبے کی سب سے قابلِ تعریف بات یہ محسوس کی جا رہی ہے کہ صفائی کے شعبے سے وابستہ اہلکاروں کو عزت و احترام کی نئی پہچان ملی ہے۔ ماضی میں بلدیاتی صفائی عملے کو مختلف ناموں اور القابات سے پکارا جاتا تھا، مگر آج عام زبان پر “صاف ستھرا پنجاب کی ٹیم” یا “اہلکار” جیسے باعزت الفاظ سننے کو ملتے ہیں، جو ایک مثبت تبدیلی کی عکاسی ہے۔ مزید یہ کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کی جانب سے خود “صاف ستھرا پنجاب” کی جیکٹ پہننا اس منصوبے اور اس سے وابستہ کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ اسی منصوبے میں ایک مثال تنویر اختر شیخ کی بھی دی جاتی ہے، جنہیں 34 سالہ سیاسی جدوجہد اور تنظیمی وابستگی کے بعد راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی( صاف ستھرا پنجاب ) میں ٹیکنیکل ڈائریکٹر کی ذمہ داری سونپی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ دفتر کے ساتھ مختلف یونین کونسلوں میں بھی جیکٹ پہن کر “صاف ستھرا پنجاب” ٹیم کے شانہ بشانہ کام کرتے ہیں اور وزیر اعلیٰ کے وژن کی عملی تصویر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ راولپنڈی میں مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر عہدیدار کے طور پر ان کی محنت کو دیگر کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا جا رہا ہے۔