شوپیاں میں جامعہ سراج العلوم پر پابندی مذہبی آزادی، تعلیمی خودمختاری اور کشمیر کی شناخت پر سنگین وارہے،مشتاق احمد بٹ

شوپیاں میں جامعہ سراج العلوم پر پابندی مذہبی آزادی، تعلیمی خودمختاری اور کشمیر کی شناخت پر سنگین وارہے،مشتاق احمد بٹ

اسلام آباد۔28اپریل (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس (آزاد کشمیر و پاکستان شاخ) نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع شوپیاں میں واقع معروف دینی و تعلیمی ادارے جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی قرار دینے کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے نہ صرف ایک ادارے کے خلاف کارروائی بلکہ خطے کی مذہبی آزادی، تعلیمی خودمختاری اور کشمیری مسلمانوں کی شناخت پر ایک سنگین اور ناقابلِ قبول حملہ قرار دیا ہے۔منگل کو حریت کانفرنس کے سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے اپنے بیان میں اس امر کی نشاندہی کی کہ جامعہ سراج العلوم، شوپیاں کو بھارتی قابض انتظامیہ کی جانب سے کالعدم قرار دینا کسی معمول کی انتظامی پیش رفت نہیں بلکہ یہ بھارت کی ایک منظم اور طویل المدتی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے اثرات مقبوضہ کشمیر کی مذہبی، تعلیمی اور سماجی ساخت پر گہرے اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام نے نہ صرف مقامی آبادی میں شدید اضطراب اور بے چینی کو جنم دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کی صورتحال کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔بیان میں اس حقیقت پر زور دیا گیا کہ یہ اقدام ایک ایسے ماحول میں سامنے آئی ہے جہاں پہلے ہی مسلم تشخص ،شہری آزادیوں، اظہارِ رائے کی آزادی اور مذہبی خودمختاری کے حوالے سے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں یو اے پی اے جیسے سخت اور متنازع قانون کا اطلاق کسی دینی و تعلیمی ادارے پر کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نامنہاد سکیورٹی قوانین کا دائرہ کار تمام حدود سے تجاوز کر کے اب علمی و مذہبی اداروں تک وسیع کیا جا رہا ہے۔مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ جامعہ سراج العلوم جیسے ادارے محض تعلیم گاہیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ فکری تربیت، سماجی ہم آہنگی اور مقامی مذہبی و ثقافتی شناخت کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

ایسے ادارے کے خلاف کارروائی کو کشمیری عوام اپنی اجتماعی شناخت پر براہِ راست حملہ تصور کرتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ خدشات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں کہ آیا یہ اقدام کسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ تو نہیں، جس کے ذریعے مسلم مذہبی و تعلیمی اداروں کو بتدریج محدود یا کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اطلاعات کے مطابق مساجد اور ان کے انتظامی ڈھانچوں کی نگرانی، رجسٹریشن اور پروفائلنگ جیسے اقدامات سامنے آ رہے ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق خصوصاً مذہبی آزادی اور نجی زندگی کے حق سے متصادم ہیں۔ ایسے اقدامات معاشرتی اعتماد کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی تقسیم کو بھی مزید گہرا کرتے ہیں۔بیان میں نریندر مودی کی قیادت میں موجودہ بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ حالیہ اقدام سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ریاستی اقدامات ایک مخصوص مذہبی شناخت کے حامل اداروں کو ہدف بنا رہے ہیں، جو نہ صرف بھارت کے سیکولر تشخص بلکہ اس کے آئینی تقاضوں سے بھی متصادم ہیں۔ ایسے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات اور مذہبی آزادی کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری، بالخصوص انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال کا فوری اور سنجیدہ نوٹس لیں۔ بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی کے نام پر مذہبی و تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ عالمی سطح پر مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے مستقبل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔مشتاق بٹ نے کہا کہ جامعہ سراج العلوم پر عائد پابندی ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر رجحان کی علامت ہے، ایسا رجحان جو مقبوضہ کشمیر میں مذہبی، تعلیمی اور ثقافتی خودمختاری کو بتدریج محدود کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف فوری طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں بلکہ مستقبل میں بھی خطے کی سماجی، فکری اور سیاسی سمت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔