سی پیک پاکستان کی معاشی تبدیلی اور علاقائی رابطہ کاری کا اہم ستون بن چکا ہے، محمد ضمیر اسدی

سی پیک پاکستان کی معاشی تبدیلی اور علاقائی رابطہ کاری کا اہم ستون بن چکا ہے، محمد ضمیر اسدی

اسلام آباد۔16مئی (اے پی پی):چائنا انٹرنیشنل پریس کمیونیکیشن سینٹر کے ریسرچ فیلو محمد ضمیر اسدی نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پاکستان کی طویل المدتی معاشی تبدیلی کا بنیادی ستون اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا نمایاں منصوبہ بن چکی ہے۔ہفتہ کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں سی پیک صرف انفراسٹرکچر منصوبے تک محدود نہیں رہی بلکہ توانائی، صنعتی ترقی، زرعی جدت اور عوامی روابط پر مشتمل ایک ہمہ جہتی تعاون میں تبدیل ہو چکی ہے۔

ان کے مطابق اس منصوبے کے تحت اب تک 25 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری اور 2 لاکھ 61 ہزار سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جا چکے ہیں۔محمد ضمیر اسدی نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان کے توانائی بحران پر قابو پانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور قومی گرڈ میں 8 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی شامل ہونے سے لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی آئی۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں کوئلہ، پن بجلی، ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبوں نے توانائی کے نظام کو مزید مستحکم بنایا۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں، خصوصاً لاہور اورنج لائن میٹرو اور مختلف شاہراہوں کی تعمیر سے سفری سہولیات بہتر ہوئیں اور لاجسٹکس لاگت میں کمی آئی، جبکہ پسماندہ علاقوں کو قومی و علاقائی منڈیوں سے منسلک کرنے میں مدد ملی۔ان کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ خطے میں تجارتی اور بحری سرگرمیوں کا اہم مرکز بننے کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں بین الاقوامی ہوائی اڈے، بندرگاہی انفراسٹرکچر، اسپتالوں اور دیگر بنیادی سہولیات پر کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون اور اسپیشل اکنامک زونز پر توجہ دی جا رہی ہے، جن میں رشکئی اسپیشل اکنامک زون اور علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اہم منصوبے ہیں۔ ان منصوبوں سے برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں مزید اضافہ متوقع ہے۔محمد ضمیر اسدی نے کہا کہ زرعی شعبے میں بھی پاک چین تعاون کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور پاکستانی زرعی مصنوعات خصوصاً تل اور مرچ کی چین کو برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم، ثقافتی تبادلوں اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں تعاون نے پاک چین دوستی کو مزید مضبوط بنایا ہے، جبکہ قدرتی آفات کے دوران چین کی جانب سے پاکستان کی معاونت دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کی عکاس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں گرین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور جدید صنعتی ترقی کے شعبے سی پیک کو مزید مؤثر اور پائیدار بنا سکتے ہیں، جبکہ یہ منصوبہ پاکستان کی صنعتی ترقی، عالمی تجارت اور علاقائی رابطہ کاری کے لیے نئی راہیں ہموار کر رہا ہے۔