سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس، زرعی شعبے، گندم کی پیداوار، بیج پالیسی، کپاس بحران، زرعی تحقیقاتی اصلاحات کا جائزہ لیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس، زرعی شعبے، گندم کی پیداوار، بیج پالیسی، کپاس بحران، زرعی تحقیقاتی اصلاحات کا جائزہ لیا

اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پاکستان کے زرعی شعبے، گندم کی پیداوار، بیج پالیسی، کپاس کے بحران، زرعی تحقیقاتی اصلاحات اور وفاق و صوبوں کے درمیان رابطہ کاری کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی بحالی وزیراعظم کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافہ، تحقیقی اداروں کی جدید خطوط پر اصلاح اور کسانوں کی معاونت کے لیے پائیدار اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں فی ایکڑ گندم اور چاول کی پیداوار خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے جس میں اضافے کے لیے گزشتہ دو برسوں کے دوران مختلف حکومتی اقدامات کئے گئے ہیں۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان زرعی تحقیق پر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف 0.02 فیصد خرچ کرتا ہے جبکہ بھارت 0.4 فیصد خرچ کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چین کے زرعی ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے چینی ماہرین نے پاکستان کے زرعی نظام کا جامع جائزہ لیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے زرعی اصلاحات اور تحقیقی نظام کی بہتری سے متعلق وسیع سفارشات کی منظوری دے دی ہے جبکہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) سمیت مختلف تحقیقی اداروں میں اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر زرعی تحقیق پر سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ رانا تنویر حسین نے مزید بتایا کہ پی اے آر سی کو جدید تحقیق، ٹیکنالوجی اور معیاری بیجوں کی تیاری کے حوالے سے ایک جدید مرکز فضیلت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بینکوں کو زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی بڑھانے کی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ زرعی مشینری اور کسانوں کی فلاح و بہبود کو فروغ دیا جا سکے۔اجلاس کے دوران سینیٹر شہادت اعوان نے کسانوں کی حقیقی آمدن اور وزارت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں کسان زرعی کامیابی کو فی ایکڑ منافع کی بنیاد پر جانچتے ہیں، اس لیے پیداواری لاگت اور کسان کی آمدن کا حقیقت پسندانہ تقابل ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی زرعی پیداوار اور اس کی حقیقی صلاحیت میں واضح فرق موجود ہے، لہٰذا پیداوار میں کمی کی وجوہات کو شفاف انداز میں سامنے لانا ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کمیٹی کو بتایا کہ حالیہ سیلاب، شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے اس سال گندم کی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر گندم کی پیداوار کا ہدف 30 ملین ٹن مقرر کیا گیا تھا، تاہم موسمی اثرات کے باعث اس تخمینے پر نظرثانی کرنا پڑی۔رانا تنویر حسین نے بتایا کہ کسان تنظیموں نے گندم کی امدادی قیمت 3 ہزار 200 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ حکومت نے قیمت 3 ہزار 500 روپے مقرر کی۔ ان کے مطابق گندم کی موجودہ پیداواری لاگت تقریباً 2 ہزار 600 روپے فی من ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے گندم خریداری کے اہداف پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ حکومتِ سندھ نے صرف ایک لاکھ ٹن گندم خریدنے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ زرعی شعبے میں صوبوں کا تعاون نہ ہونے کے برابر ہے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بعد مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ سینیٹر شہادت اعوان نے زمین کی پیداواری صلاحیت میں کمی پر سوال اٹھایا اور زور دیا کہ کسانوں کو معیاری بیج، پانی اور کھاد کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کھاد کی قیمتوں سے متعلق شکایات کا بھی ذکر کیا اور صوبوں سے بہتر تعاون کے لیے کمیٹی کی جانب سے باضابطہ خط لکھنے کی تجویز دی۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید مسرور احسن نے زرعی توسیعی خدمات (ایگریکلچرل ایکسٹینشن سروسز) کو زرعی ترقی کا سب سے اہم جزو قرار دیتے ہوئے خضدار اور تربت میں زرعی لیبارٹریوں کے منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ اربوں روپے مختص ہونے کے باوجود خضدار اور تربت میں زرعی لیبارٹریوں کا کام مکمل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ زرعی چیلنجز اور غذائی تحفظ کے مسائل پر قابو پانے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر تعاون ناگزیر ہے۔

اجلاس میں قومی بیج پالیسی پر صوبوں کے ساتھ ہونے والی مشاورت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ رانا تنویر حسین نے اعتراف کیا کہ مزید وسیع مشاورت کی ضرورت ہے اور اعلان کیا کہ معاملہ مزید غور کے لیے موخر کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کی منظوری کے بعد اتفاقِ رائے سے نئی پالیسی لائی جائے گی۔ سینیٹر عابد شیر علی نے کسانوں اور کپاس کے شعبے کی خراب صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور ناقص درآمدی پالیسیوں نے کپاس کے کاشتکاروں کو تباہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کپاس برآمد کرنے والا ملک تھا، مگر اب کپاس درآمد کی جاتی ہے ۔

سینیٹر عابد شیر علی نے کہا کہ فیصل آباد سے صادق آباد تک پھیلی روایتی کاٹن بیلٹ تیزی سے سکڑ رہی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ شوگر ملز کے اثر و رسوخ کے باعث گنے کی کاشت کپاس کی جگہ لے رہی ہے اور چند بااثر مافیاز کے مفادات کے لیے کسانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ درآمدی کپاس پر زیرو ٹیکس جبکہ مقامی کپاس پر ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے اور وفاق و صوبوں کے درمیان موثر زرعی رابطہ کاری کے نظام کے قیام کا مطالبہ کیا۔کھاد کی قلت سے متعلق خدشات پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں کھاد کی کوئی کمی نہیں اور قیمتوں میں فرق بھی زیادہ نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایف ایف سی، اینگرو اور فاطمہ فرٹیلائزر کے سیل مراکز ملک بھر میں قائم کیے گئے ہیں اور پاکستان میں کھاد کی قیمتیں عالمی منڈی کے مقابلے میں نسبتاً کم ہیں۔

رانا تنویر حسین نے مزید بتایا کہ پاکستان کی پہلی جامع بیج پالیسی متعارف کروائی جا چکی ہے جبکہ جی ایم او اور ہائبرڈ بیج ٹیکنالوجی زرعی پیداوار کو دوگنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ صوبوں کی جانب سے زوننگ منصوبوں پر کمزور عملدرآمد اور گنے کی بڑھتی ہوئی کاشت نے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں کو متاثر کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کپاس کی کم پیداوار کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کسانوں کو مناسب قیمت نہیں ملتی۔

اجلاس کے دوران سینیٹر شہادت اعوان نے 2016ء اور 2021ء میں بیج قوانین میں کی گئی ترامیم، لائسنسنگ کے طریقہ کار، ریگولیٹری نظام اور مجوزہ سیڈ ایکٹ ترامیم سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔کمیٹی کو پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی درخواست پر کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں شوگر ملز کے قیام سے متعلق تجاویز پر بھی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں سینیٹرز شہادت اعوان، عابد شیر علی، پونجو بھیل، راحت جمالی، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور وزارت کے سینئر حکام نے شرکت کی۔