سپریم کورٹ کا ایک بیٹے کو ہبہ پلاٹ میں دوسرے بیٹے کو بھی حصہ دینے کا حکم

سپریم کورٹ کا ایک بیٹے کو ہبہ پلاٹ میں دوسرے بیٹے کو بھی حصہ دینے کا حکم

اسلام آباد۔16اپریل (اے پی پی):سپریم کورٹ نے والد کی جانب سے وفات سے قبل ایک بیٹے کو پلاٹ ہبہ کرنے کے خلاف دائر کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے دوسرے بیٹے کو بھی پلاٹ میں حصہ دینے کا حکم دے دیا۔کیس کی سماعت جمعرات کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ 1969 میں محمد بوٹا نے اپنے ایک بیٹے محمد حسین کو پلاٹ ہبہ کیا تھا۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 31 سال بعد دوسرے بیٹے محمد نذر نے سال 2000 میں اس ہبہ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ مرحوم محمد بوٹا کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں تاہم پلاٹ صرف ایک بیٹے کے نام کیا گیا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ محض دعویٰ کافی نہیں بلکہ یہ ثابت کرنا ہوگا کہ پلاٹ واقعی ہبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عدالتی نظیر موجود ہے کہ جرح کے دوران تسلیم کرنے کے باوجود بھی دعویٰ ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مخالف فریق نے جرح کے دوران گفٹ کو تسلیم کیا ہے، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ عدالت استدعا اور شواہد کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے دوسرے بیٹے کو بھی پلاٹ میں حصہ دینے کا حکم دے دیا۔