سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچے کے اغوا اور قتل کیس میں تین مجرمان کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچے کے اغوا اور قتل کیس میں تین مجرمان کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ بچے عمر راٹھور کے اغوا اور قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے تین مجرمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے شریک ملزم اسد ممتاز کی بریت کے خلاف اپیل بھی مسترد کر دی۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں قرار دیا گیا کہ استغاثہ نے مقدمے میں براہ راست شہادت کے بجائے حالات و واقعات کے تسلسل اور شواہد کی کڑیوں کے ذریعے جرم ثابت کیا ہے تاہم ریکارڈ میں موجود بعض شکوک و شبہات سزائے موت برقرار رکھنے کے معیار کو پورا نہیں کرتے۔فیصلے کے مطابق عدالت نے آفتاب ظفر، حمزہ جہانگیر اور محمد یاسر کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرتے ہوئے حکم دیا کہ تینوں مجرمان مقتول کے لواحقین کو 5، 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کریں۔عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں موجود باقی ماندہ شک کا فائدہ ملزمان کو دیتے ہوئے سزائے موت ختم کی جا رہی ہے۔

تفصیلی فیصلے کے مطابق مقتول عمر راٹھور کو 21 دسمبر 2019ء کو تھانہ بہارہ کہو کی حدود سے اغوا کیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق مجرمان نے تاوان کی غرض سے بچے کو آفتاب ظفر کے کرائے کے مکان میں قید کر رکھا تھا۔عدالت کے مطابق پولیس کی بڑھتی ہوئی تلاش اور بچے کے رونے کی وجہ سے ملزمان نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں 24 دسمبر 2019ء کو بچے کی لاش ایک لکڑی کی الماری سے برآمد ہوئی جس کے ہاتھ پائوں ٹیپ سے بندھے ہوئے تھے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے جائے وقوعہ سے ملنے والے سگریٹ کے ٹکڑوں پر مجرمان کے ڈی این اے کی تصدیق کی جبکہ نیشنل فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شیشے کی اشیاء پر آفتاب ظفر، حمزہ جہانگیر اور محمد یاسر کے فنگر پرنٹس بھی پائے گئے۔عدالت نے قرار دیا کہ مکان کی مالکن نے بھی گواہی دی کہ نچلا حصہ ملزم آفتاب ظفر کو 12 ہزار روپے ماہانہ کرائے پر دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ استغاثہ نے حالات و واقعات کے ذریعے جرم ثابت کیا ہے تاہم سزائے موت کے معیار کے مطابق غیر معمولی یقین دہانی موجود نہ ہونے کے باعث اسے عمر قید میں تبدیل کیا گیا ہے۔