سپریم کورٹ نے اعترافِ جرم پر مبنی سزا کالعدم قرار دے کر ملزم کو بری کر دیا

سپریم کورٹ نے اعترافِ جرم پر مبنی سزا کالعدم قرار دے کر ملزم کو بری کر دیا

اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ رضاکارانہ، سچا اور قانون کے مطابق ریکارڈ نہ کیا گیا اعترافی بیان کسی بھی ملزم کو سزا دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا، خصوصاً جب بیان بعد میں واپس لے لیا گیا ہو اور اس کی آزادانہ شہادت سے توثیق بھی موجود نہ ہو۔جسٹس جمال خان مندو خیل کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے احمد سعید عرف بھرم عرف نگوری کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور انسداد دہشت گردی عدالت کراچی کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے اور ملزم کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر ملزم کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے فوری رہا کیا جائے۔عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ 2009 میں درج قتل کے مقدمے میں چھ برس تک کوئی ثبوت یا ملزم سامنے نہیں آیا۔

بعد ازاں رینجرز کی تحویل میں موجود ملزم کو پولیس کے حوالے کیا گیا اور اس کا دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت اعترافی بیان ریکارڈ کیا گیا تاہم بیان ریکارڈ کرنے کے طریقہ کار میں سنگین قانونی خامیاں پائی گئیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ اعترافی بیان حلف پر ریکارڈ کیا گیا جو آئین کے آرٹیکل 13(b) میں دیئے گئے حقِ تحفظِ خود الزام تراشی کے منافی ہے۔ عدالت کے مطابق حلف کے تحت لیا گیا بیان رضاکارانہ نہیں سمجھا جا سکتا، اس لئے وہ ناقابلِ قبول شہادت بن جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجسٹریٹ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 اور 364 کے لازمی تقاضے پورے نہیں کئے، ملزم کو غور و فکر کے لئے مناسب وقت دینے، پولیس و رینجرز کے اثر سے مکمل آزادی یقینی بنانے اور ہر صفحے پر دستخط یا انگوٹھا ثبت کرانے جیسے قانونی تقاضوں پر عمل نہیں کیا گیا۔

عدالت نے یہ بھی آبزرو کیا کہ اعترافی بیان میں متعدد مقدمات، تاریخوں، اوقات اور دیگر افراد کے ناموں کی غیر معمولی تفصیلات شامل تھیں جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بیان فطری اور رضاکارانہ نہیں بلکہ پہلے سے تیار شدہ تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ واپس لئے گئے اعترافی بیان کی آزادانہ شہادت سے توثیق ضروری ہوتی ہے مگر استغاثہ کوئی عینی، فرانزک یا ضمنی شہادت پیش نہیں کر سکا۔ عدالت کے مطابق صرف ایک غیر مصدقہ اور واپس لئے گئے اعترافی بیان کی بنیاد پر سزائے موت یا عمر قید جیسی سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ اعترافی بیان میں بعض سیاسی شخصیات کے نام شامل کئے گئے لیکن انہیں صفائی یا جرح کا موقع نہیں دیا گیا، جو آئین کے آرٹیکل 10 اے میں دیئے گئے شفاف ٹرائل کے حق کے منافی ہے۔ عدالت نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی ساکھ کو بلاجواز نقصان پہنچانا قابلِ افسوس ہے اور مجسٹریٹ کو قانون کی حدود میں رہتے ہوئے کارروائی کرنی چاہئے تھی۔