اسلام آباد۔25اپریل (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ مسلسل اور منظم روابط کے ذریعے عدالتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس کا مقصد ایک جدید، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اور عالمی سطح پر مربوط عدالتی نظام کا قیام ہے۔اگست 2025 میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور چین کی سپریم پیپلز کورٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئے، جس کے تحت عدالتی تبادلوں، ٹیکنالوجی کے استعمال، استعداد کار میں اضافہ اور قانون کے ابھرتے شعبوں میں تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔اپریل 2025 میں چین کے شہر ہانگژو میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے چیف جسٹسز کی 20ویں کانفرنس میں پاکستانی اعلیٰ سطحی عدالتی وفد کی شرکت نے ادارہ جاتی روابط کے فروغ کی بنیاد رکھی۔
اس وفد میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوادر اور سینئر سول جج لکی مروت شامل تھیں۔ ان ابتدائی روابط کو بعد ازاں تکنیکی تعاون، تربیتی پروگرامز اور باہمی دوروں کی شکل میں وسعت دی گئی۔چین کے ساتھ اس تعاون کی نمایاں خصوصیت ضلعی عدلیہ کے نمایاں کارکردگی کے حامل ججز کو بین الاقوامی مواقع فراہم کرنا ہے، خصوصاً وہ ججز جو دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد نچلی سطح پر عدالتی نظام کو مضبوط بنانا اور عالمی بہترین طریقہ کار کو ٹرائل کورٹس تک منتقل کرنا ہے۔اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گھوٹکی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے مئی 2025 میں شنگھائی میں منعقدہ 9ویں چین-جنوبی ایشیا لیگل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی، جبکہ جولائی 2025 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک کورٹ ایسوسی ایٹ نے بیجنگ میں 8ویں چین-آلکو (اے اے ایل سی او) ایکسچینج اینڈ ریسرچ پروگرام میں حصہ لیا۔
مزید برآں جولائی 2026 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک وفد، جس میں ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ اور سینئر سول جج مٹھی (تھرپارکر) شامل ہوں گے، چین-ایس سی او ممالک کی لوکل کورٹس کے ججز کے فورم میں شرکت کرے گا۔ اسی طرح مئی 2026 میں شنگھائی میں ہونے والے 10ویں چین-جنوبی ایشیا لیگل ٹریننگ کورس کے لیے بنوں اور ڈیرہ غازی خان کے سینئر سول ججز کو نامزد کیا گیا ہے۔عدالتی تبادلوں کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران پر مشتمل ایک خصوصی وفد بھی جولائی 2026 میں بیجنگ کا دورہ کرے گا، جہاں وہ عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال، ڈیجیٹل اصلاحات اور مصنوعی ذہانت کے اطلاق کا عملی مشاہدہ کریں گے۔
یہ پیش رفت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ مفاہمتی یادداشت ایک فعال دستاویز کے طور پر عدالتی استعداد، ادارہ جاتی جدت اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بدلتے ہوئے تقاضوں سے نمٹنے کے لیے ایسے عالمی شراکت داری کے عمل کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔