اسلام آباد۔29مئی (اے پی پی):عیدالاضحیٰ کے موقع پر سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کے بعد گھروں میں خواتین قربانی کے گوشت کو محفوظ کرنے، تقسیم کرنے اور مختلف روایتی پکوان تیار کرنے میں مصروف رہیں جبکہ اہل خانہ، عزیز و اقارب اور مہمانوں کی تواضع کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ عید کے تیسرے روز بھی گھریلو باورچی خانوں میں گہما گہمی دیکھی گئی جہاں خواتین باربی کیو، قورمہ، پلاؤ، کباب، قیمہ اور دیگر گوشت سے تیار ہونے والی روایتی ڈشز بنانے میں مصروف رہیں جبکہ قربانی کے گوشت کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کرکے فریزرز میں محفوظ کیا جاتا رہا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے ابتدائی ایام میں قربانی اور مہمان داری کے بعد آخری دنوں میں گوشت کو محفوظ کرنے اور مختلف کھانے تیار کرنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
سیکٹر جی نائن کی رہائشی گھریلو خاتون زرین نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین گھنٹوں گوشت دھونے، کاٹنے، میرینیٹ کرنے اور پیک کرنے میں مصروف رہتی ہیں تاکہ گوشت طویل عرصے تک تازہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی خاندان عزیز و اقارب اور ہمسایوں کیلئے پکے ہوئے کھانے بھی تیار کرتے ہیں جو عید کی خوبصورت روایت کا حصہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ عید کے دنوں میں فریزر مختلف حصوں میں محفوظ گوشت سے بھرے رہتے ہیں تاکہ تعطیلات کے بعد بھی روزمرہ کھانوں میں استعمال کیا جا سکے۔ ایک اور رہائشی رضیہ نے اے پی پی کو بتایا کہ قربانی کے گوشت سے گھروں میں پکوان تیار کرنے سے خاندان کے افراد ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور باہمی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ کام محنت طلب ہے تاہم خواتین عیدالاضحیٰ کی حقیقی روح کو برقرار رکھنے کیلئے خوش دلی سے یہ ذمہ داریاں انجام دیتی ہیں۔ متعدد گھروں میں آئندہ ہفتے کے خاندانی اجتماعات کیلئے باربی کیو اور کڑاہی کے تیار شدہ گوشت کے پیکٹس بھی بنائے جاتے رہے۔ بلو ایریا میں نجی کلینک سے وابستہ معالج ڈاکٹر سارہ نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں کو گرم موسم میں گوشت کو محفوظ کرنے اور استعمال کے دوران صفائی کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صاف برتنوں کا استعمال، مناسب ٹھنڈک اور متوازن مقدار میں گوشت کا استعمال صحت کے مسائل اور خوراک کے آلودہ ہونے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
عید کی تعطیلات کے دوران مقامی بازاروں، مصالحہ جات کی دکانوں اور قصاب مارکیٹوں میں بھی رش دیکھنے میں آیا جہاں شہری فریزر بیگز، مصالحے، کوئلہ اور دیگر اشیائے خورونوش خریدتے رہے۔ سماجی مبصرین کے مطابق جدید طرز زندگی اور ہوٹلوں سے کھانا منگوانے کے بڑھتے رجحان کے باوجود گھروں میں تیار کیے جانے والے قربانی کے پکوان آج بھی پاکستانی معاشرے میں گہری ثقافتی اور جذباتی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق قربانی کے گوشت کی تیاری اور تقسیم مہمان نوازی، سخاوت اور خاندانی یکجہتی کی خوبصورت روایت کی عکاس ہے۔