اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے سمندری کچرے کو محض آلودگی نہیں بلکہ قابلِ استعمال معاشی وسیلہ قرار دیتے ہوئے بلیو سرکلر اکانومی کے فروغ پر زور دیا ہے۔ پیر کو وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ سمندری فضلے کی ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ معاشی فوائد بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کی ’’صاف بندرگاہ، صحت مند بحری ماحولیاتی نظام‘‘ مہم کے تحت کراچی پورٹ پر بڑے پیمانے پر صفائی آپریشن تیز کر دیا گیا ہے تاکہ سمندری آلودگی میں کمی اور ساحلی حیاتیاتی تنوع کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)نے ایسٹ وارف، ویسٹ وارف، آئل پیئرز اور بوٹ بیسن جیٹی سمیت اہم مقامات پر صفائی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں جہاں مئی کے پہلے دو ہفتوں کے دوران تین مراحل میں 58 ہزار کلوگرام سے زائد ٹھوس کچرا سمندری پانی سے نکالا گیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 159 کشتی آپریشنز اور 487 اہلکاروں کی مدد سے مجموعی طور پر 58 ہزار 450 کلوگرام تیرتا ہوا کچرا جس میں زیادہ تر پلاسٹک اور سمندری ملبہ شامل تھا، جمع کیا گیا۔ جمع شدہ فضلہ ماحولیاتی ضوابط کے مطابق سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی تلفی گاہوں تک منتقل کیا گیا۔ محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ اقدام بلیو سرکلر اکانومی کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے جس کے تحت سمندری فضلے کو دوبارہ قابلِ استعمال وسائل کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے ری سائیکلنگ اور اپ سائیکلنگ کے ذریعے سمندری پلاسٹک کے اخراج میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں جن میں استعمال شدہ ماہی گیری جالوں کو نئی مصنوعات میں تبدیل کرنا اور مچھلی کے فضلے سے کھاد، فیڈ اور بائیو مصنوعات تیار کرنا شامل ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ماہی گیری کی سرگرمیوں کے ساتھ فضلہ جمع کرنے اور بازیافت شدہ کچرے کی ری سائیکلنگ سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لئے معاشی مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سمندر میں جانے والے پلاسٹک اور ملبے کا بڑا حصہ شہری نکاسی آب کے نظام کے ذریعے ساحلی پانیوں تک پہنچتا ہے جو سمندری آلودگی، آبی حیات، ماہی گیری اور بندرگاہی سرگرمیوں کے لئے سنگین خطرات کا باعث بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کراچی ہاربر سے جمع کئے گئے 58 ہزار 450 کلوگرام فضلے کو مؤثر انداز میں الگ کرکے ری سائیکلنگ کے عمل میں شامل کیا جائے تو اس کی ممکنہ معاشی مالیت 7 ہزار سے 32 ہزار امریکی ڈالر تک ہو سکتی ہے جبکہ اوسط اندازے کے مطابق اس کی مالیت تقریباً 17 ہزار 535 ڈالر بنتی ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق اصل معاشی فوائد کا انحصار ری سائیکل ہونے والے پلاسٹک خصوصاً پی ای ٹی اور ایچ ڈی پی ای، کی مقدار، سمندری پانی یا تیل سے آلودگی کی سطح اور پراسیسنگ لاگت پر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں مخلوط پلاسٹک سکریپ کی قیمت عموماً 0.10 سے 0.55 امریکی ڈالر فی کلوگرام کے درمیان رہتی ہے جبکہ بہتر معیار کے اور ای ٹی اور ایچ ڈی پی ای زیادہ قیمت حاصل کرتے ہیں۔محمد جنید انوار چوہدری نے زور دیا کہ ماخذ پر کچرے کی مؤثر درجہ بندی اور بندرگاہوں پر ری سائیکلنگ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ماحولیاتی اور معاشی فوائد کے حصول کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تیرتے ہوئے فضلے کی مسلسل صفائی سمندری حیات کے تحفظ، بحری آمدورفت کے محفوظ نظام اور صاف و پائیدار بندرگاہی ماحول کے قیام کے لیے انتہائی ضروری ہے جبکہ اس سے بڑھتی ہوئی شہری سمندری آلودگی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔